جرمنی کی آٹوموبائل صنعت شدید بحران کا شکار، بڑی کمپنیوں میں ملازمتوں پر منڈلاتے خطرات
شہزاد حسین، جرمنی
یورپ کی بڑی آٹو موبائل انڈسٹری جرمنی جو کئی دہائیوں سے ملک کی معیشت کا ایک اہم ستون رہی ہے اس وقت شدید بحران سے گزر رہی ہے-
عالمی مارکیٹ میں چین کی گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کے بڑھتے ہوئے اثر، الیکٹرک گاڑیوں کی طرف منتقلی کے علاوہ کم ہوتی فروخت اور بڑھتے اخراجات نے جرمن کار ساز کمپنیوں کو مشکل فیصلے کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
سب سے زیادہ دباؤ وولکس واگن پر نظر آ رہا ہے۔ وولکس واگن کا زویکاؤ سکسنی پلانٹ جو جرمنی کا پہلا مکمل الیکٹرک گاڑیوں کا کارخانہ بنا تھا مستقبل میں تبدیلیوں کا سامنا کر رہا ہے۔ کمپنی نے پیداوار کم کرنے اور اخراجات گھٹانے کے منصوبے بنائے ہیں جس سے ملازمتوں پر اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔
لگژری کار بنانے والی کمپنی پورشے بھی اخراجات کم کرنے کے لیے تنظیم نو کر رہی ہے۔ کمپنی نے آنے والے برسوں میں تقریباً 5,000 ملازمتیں کم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ یہ کمی زیادہ تر رضاکارانہ معاہدوں، ریٹائرمنٹ اور خالی ہونے والی آسامیوں کو ختم کرنے کے ذریعے کی جائے گی۔
اب جرمنی کی بڑی کار ساز کمپنی بی ایم ڈبلیو نے بھی ملازمین کی تعداد کم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق 2027 کے آخر تک تقریباً 8,000 ملازمتیں ختم کردی جائیں گیں۔
ماہرین کے مطابق یہ مسئلہ صرف چند کمپنیوں تک محدود نہیں بلکہ پوری جرمن آٹو انڈسٹری کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ جرمنی کو اب نئی ٹیکنالوجی، خاص طور پر الیکٹرک گاڑیوں، بیٹریوں اور سافٹ ویئر کے میدان میں عالمی مقابلے کا سامنا ہے۔

