اہم خبریں

امریکہ میں پاکستانی نژاد شہری کے خلاف شہریت منسوخی کی کارروائی، امیگریشن فراڈ کا الزام

اگست 12, 2026

امریکہ میں پاکستانی نژاد شہری کے خلاف شہریت منسوخی کی کارروائی، امیگریشن فراڈ کا الزام

واشنگٹن: امریکہ میں وفاقی حکام نے 65 سالہ پاکستانی نژاد مرتضیٰ علی کے خلاف مبینہ امیگریشن فراڈ کے معاملے میں امریکی شہریت منسوخ کرنے کے لیے چار نکاتی قانونی کارروائی دائر کردی ہے۔

حکام کے مطابق مرتضیٰ علی نے مختلف ناموں اور شناختوں کے تحت متعدد مرتبہ امیگریشن فوائد حاصل کرنے کے لیے درخواستیں جمع کرائیں اور بعد ازاں ”محمد اقبال“ کے نام سے امریکی شہریت حاصل کی۔

حکام کا کہنا ہے کہ فنگر پرنٹس کے تجزیے سے مختلف شناختوں کے تحت جمع کرائی گئی درخواستوں کا تعلق ایک ہی شخص سے ثابت ہوا۔

ریکارڈ کے مطابق 2014 میں مرتضیٰ علی نے تین مختلف شناختوں کے ذریعے امیگریشن فوائد کے لیے تین الگ الگ درخواستیں جمع کرانے کا اعتراف کرتے ہوئے متعلقہ الزامات میں جرم قبول کیا تھا۔

اب امریکی وفاقی حکام نے اس معاملے کو بنیاد بناتے ہوئے اس کی امریکی شہریت منسوخ کرنے کے لیے عدالتی کارروائی شروع کر دی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کا امریکی شہریت منسوخی کے مقدمات پر زور، امیگریشن فراڈ سمیت مختلف کیسز ترجیحی فہرست میں

امریکا میں وفاقی قانون کے تحت دھوکہ دہی، اہم حقائق چھپانے یا غلط بیانی کے ذریعے حاصل کی گئی امریکی شہریت کو عدالت کے ذریعے منسوخ کیا جاسکتا ہے، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایسے Denaturalization مقدمات کو اپنی امیگریشن پالیسی کی اہم ترجیحات میں شامل کردیا ہے۔

امریکی کانگریس کی جانب سے وضع کردہ قوانین کے تحت بیرونِ ملک پیدا ہونے والے افراد مخصوص قانونی شرائط پوری کرنے کے بعد Naturalization کے عمل کے ذریعے امریکی شہریت حاصل کرسکتے ہیں۔ عام طور پر قانونی مستقل رہائشی یعنی گرین کارڈ ہولڈرز (LPRs) مطلوبہ شرائط پوری کرنے کے بعد شہریت کے لیے درخواست دینے کے اہل ہوتے ہیں۔

تاہم پہلے سے حاصل کی گئی امریکی شہریت واپس لینے کے قانونی عمل کو Denaturalization کہا جاتا ہے۔ امریکی قانون 8 U.S.C. § 1451 میں وہ بنیادیں بیان کی گئی ہیں جن کے تحت کسی شخص کی نیچرلائزیشن منسوخ ہوسکتی ہے۔ شہریت منسوخ ہونے کے بعد متعلقہ شخص عمومی طور پر اسی امیگریشن اسٹیٹس پر واپس چلا جاتا ہے جو شہریت حاصل کرنے سے پہلے اس کے پاس تھا۔

ٹرمپ انتظامیہ کی نئی ترجیحات

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 20 جنوری 2025 کو ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا تھا جس میں محکمہ خارجہ، محکمہ انصاف، محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کو شہریت سے متعلق مبینہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی اور ان پر مناسب کارروائی کے لیے ضروری وسائل مختص کرنے کی ہدایت کی گئی۔

بعد ازاں 11 جون 2025 کو امریکی محکمہ انصاف کے سول ڈویژن کے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے وفاقی وکلا کو Denaturalization کے مقدمات کو سول انفورسمنٹ کی ترجیح دینے کی ہدایت کی۔

رپورٹس کے مطابق دسمبر 2025 میں ٹرمپ انتظامیہ کی داخلی ہدایات میں USCIS کے فیلڈ دفاتر سے مالی سال 2026 کے باقی عرصے کے دوران ہر ماہ 100 سے 200 ممکنہ Denaturalization کیسز محکمہ انصاف کے Office of Immigration Litigation کو فراہم کرنے کے لیے کہا گیا۔

امریکی کانگریس میں بھی اس معاملے پر بحث جاری ہے اور 119ویں کانگریس میں شہریت منسوخی سے متعلق سماعتوں کے ساتھ مختلف قانون سازی کی تجاویز بھی سامنے آئی ہیں۔

کن بنیادوں پر امریکی شہریت منسوخ ہوسکتی ہے؟

وفاقی قانون کے تحت عدالت کسی شخص کی نیچرلائزیشن اس صورت میں منسوخ کرسکتی ہے اگر ثابت ہوجائے کہ شہریت غیر قانونی طریقے سے حاصل کی گئی، کوئی اہم حقیقت جان بوجھ کر چھپائی گئی یا دانستہ غلط بیانی کے ذریعے شہریت حاصل کی گئی۔

امریکی سپریم کورٹ کے مطابق حکومت کو سول Denaturalization کیس میں مضبوط اور واضح ثبوت پیش کرنا ہوتے ہیں۔ غلط بیانی کی بنیاد پر کارروائی کے لیے حکومت کو بنیادی طور پر یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ کوئی حقیقت غلط بیان یا چھپائی گئی، یہ عمل جان بوجھ کر کیا گیا، متعلقہ حقیقت شہریت کے فیصلے کے لیے اہم تھی، اور اسی غلط بیانی یا چھپائی کے نتیجے میں شہریت حاصل ہوئی۔

مثال کے طور پر اگر کوئی درخواست گزار شہریت حاصل کرنے کے لیے نیچرلائزیشن انٹرویو میں جان بوجھ کر اہم معلومات کے بارے میں جھوٹ بولتا ہے تو یہ شہریت منسوخی کی کارروائی کی بنیاد بن سکتا ہے۔

سول اور فوجداری کارروائی میں کیا فرق ہے؟

عام طور پر USCIS کسی شناخت شدہ کیس کو محکمہ انصاف (DOJ) کے پاس بھیجتا ہے، جس کے بعد محکمہ انصاف سول یا فوجداری کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کرسکتا ہے۔

زیادہ تر Denaturalization مقدمات سول نوعیت کے ہوتے ہیں۔ ایسے سول مقدمات میں عمومی طور پر کوئی statute of limitations نہیں اور حکومت کو واضح، قائل کرنے والے اور غیر مبہم شواہد کے ذریعے اپنا مقدمہ ثابت کرنا ہوتا ہے۔

فوجداری مقدمات میں، 18 U.S.C. § 1425 کے تحت جان بوجھ کر غیر قانونی طریقے سے شہریت حاصل کرنے یا حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے شخص کو جرمانے یا قید کا سامنا ہوسکتا ہے۔ ایسے مقدمات میں عمومی طور پر دس سال کی قانونی مدت لاگو ہوتی ہے اور جرم کو reasonable doubt سے بالاتر ثابت کرنا ضروری ہوتا ہے۔

شہریت ختم ہونے کے بعد کیا ہوتا ہے؟

شہریت خاتمے یا Denaturalization مکمل ہونے کے بعد متعلقہ شخص کا امیگریشن سٹیٹس عموماً شہریت حاصل کرنے سے پہلے والی حالت میں واپس چلا جاتا ہے، جو اکثر Lawful Permanent Resident یا گرین کارڈ ہولڈر کا سٹیٹس ہوتا ہے۔

تاہم گرین کارڈ ہولڈر ہونے کی صورت میں وہ شخص امریکی امیگریشن قوانین کے تحت ملک بدری کی بنیادوں کے تابع ہوسکتا ہے۔

محکمہ انصاف کی پریکٹس کے مطابق شہریت منسوخ ہونے والے شخص کو اپنا Certificate of Naturalization اور امریکی شہریت ثابت کرنے والی دیگر دستاویزات، بشمول امریکی پاسپورٹ، واپس کرنا پڑسکتا ہے جبکہ DHS اور محکمہ خارجہ کو بھی اس تبدیلی سے آگاہ کیا جاتا ہے۔

امریکا میں Denaturalization کارروائیوں کی تاریخ

1968 سے 2013 کے درمیان امریکا میں 150 سے بھی کم افراد کی شہریت منسوخ کی گئی تھی۔

اوباما انتظامیہ نے Operation Janus شروع کیا، جس کا مقصد ایسے افراد کی تحقیقات کرنا تھا جن کے خلاف ملک بدری کے احکامات موجود تھے لیکن بعد میں انہوں نے مختلف شناختوں کے ذریعے امریکی شہریت حاصل کرلی۔

2019 میں پہلی ٹرمپ انتظامیہ کے دوران اس پروگرام کو Operation Second Look کے تحت مزید وسیع کیا گیا اور تقریباً 700,000 فائلوں کے جائزے کا ہدف سامنے آیا۔

2018 میں USCIS نے مزید تقریباً 1,600 کیسز محکمہ انصاف کو Denaturalization کارروائی کے لیے بھیجنے کا ارادہ ظاہر کیا، جبکہ 2020 میں محکمہ انصاف کے سول ڈویژن نے ایسے مقدمات کے لیے خصوصی سیکشن قائم کیا۔

2021 میں صدر جو بائیڈن نے وفاقی اداروں کو ہدایت دی کہ شہریت منسوخی کی پالیسیوں اور طریقہ کار کو ضرورت سے زیادہ یا نامناسب انداز میں استعمال نہ کیا جائے۔

رپورٹس کے مطابق 2017 سے 2025 کے درمیان 130 سے زائد Denaturalization مقدمات دائر کیے گئے، جبکہ موجودہ ٹرمپ انتظامیہ نے جون 2025 کی ہدایات کے بعد ایسے سول مقدمات پر کارروائی مزید تیز کردی ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے