اہم خبریں

لاہور میں‌ تین پولیس اہلکار کیسے مارے گئے، دشمنی کی وجہ کیا تھی؟

اگست 14, 2026

لاہور میں‌ تین پولیس اہلکار کیسے مارے گئے، دشمنی کی وجہ کیا تھی؟

جمعرات کی شب بظاہر ٹارگٹڈ حملوں کے دوران مسلح افراد نے مبینہ طور پر بادامی باغ کے علاقے میں دو پولیس اہلکاروں اور ملتان روڈ پر یتیم خانہ چوک کے مقام پر ایک پولیس اہلکار کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا، ملزمان کی فائرنگ سے تین اہلکار زخمی بھی ہوئے۔

پہلے واقعے میں مارے جانے والے اہلکاروں کی شناخت سب انسپکٹر عدیل عاشق اور کانسٹیبل اسد کے طور پر کی گئی ہے۔

پولیس کی بھاری نفری اور اعلیٰ افسران جائے وقوعہ پر پہنچے، افسران نے پوری فورس کو ہائی الرٹ کیا اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کرنے کا حکم دیا۔

پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق پہلا مسلح حملہ بادامی باغ کے علاقے میں ایک انتہائی خطرناک مجرم ریحان بٹ اور اس کے ساتھیوں نے کیا۔
مسلح افراد نے دو پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی جس ے وہ شدید زخمی ہو گئے، فائرنگ کے بعد ملزمان موقع سے فرار ہو گئے۔

پولیس کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ بظاہر یہ واقعہ ریحان بٹ کی جانب سے اپنے بھائی فیضان بٹ کے قتل کے انتقام میں کیا گیا اقدام معلوم ہوتا ہے؛ فیضان بٹ مبینہ طور پر چند سال قبل محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے ساتھ ایک مقابلے میں ہلاک ہو گیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ سب انسپکٹر عدیل اس سی ٹی ڈی ٹیم کا حصہ تھے جس نے مقابلے کے دوران فیضان کو ہلاک کیا تھا۔

پولیس عہدیدار کے مطابق فیضان مبینہ طور پر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے لیے کام کرتا تھا اور پولیس کے کچھ اہلکاروں کے قتل میں ملوث تھا۔

انہوں نے بتایا کہ عدیل اور اسد شدید زخمی ہوئے جن کے زخم بعد ازاں جان لیوا ثابت ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ عدیل نے 2024 میں پولیس کے اعلیٰ حکام کو اس معاملے سے آگاہ کیا تھا کہ انہیں ریحان بٹ کی جانب سے جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔

ان کی شکایت پر نومبر 2024 میں شفیق آباد پولیس سٹیشن میں ریحان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔

ایف آئی آر کے مطابق عدیل نے الزام لگایا تھا کہ انہیں ریحان کی طرف سے واٹس ایپ کال موصول ہوئی جس میں اس نے انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔
انہوں نے بیان کیا کہ ریحان کا الزام تھا کہ وہ (عدیل) اس سی ٹی ڈی ٹیم کا حصہ تھے جس نے مقابلے میں اس کے بھائی فیضان کو ہلاک کیا تھا، اور اس نے دھمکی دی کہ عدیل کا انجام بھی وہی ہوگا۔

فائرنگ کے اس واقعے کے ایک گھنٹے بعد کچھ مسلح افراد نے ملتان روڈ پر واقع کالعدم تنظیم (تحریک لبیک پاکستان) کے ہیڈ کوارٹر پر تعینات پولیس اہلکاروں کو مبینہ طور پر نشانہ بنایا اور اندھا دھند فائرنگ کی۔

فائرنگ کے نتیجے تین کانسٹیبل اور ایک راہگیر زخمی ہو گئے جبکہ حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

ایک کانسٹیبل بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔

پولیس حکام کو شبہ تھا کہ دوسرا حملہ بھی ممکنہ طور پر ریحان اور اس کے ساتھیوں کی جانب سے کیا گیا ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے