راولپنڈی میں حنا جاوید کا قتل، پہلا واقعہ نہ آخری: علی ارقم کا کالم
ٹوئٹر کھولا ہی تھا کہ شہرام اظہر کی پوسٹ سامنے آگئی
شہرام پولیٹیکل اکانومسٹ ہیں، لیفٹ کی سیاست سے وابستہ رہے ہیں اور امریکہ میں ایک یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں، بہت سے لوگ انہیں لال میوزک بینڈ کے سابق لیڈ سنگر کے طور پر بھی جانتے ہیں
شہرام نے انتہائی افسوسناک خبر لکھی تھی کہ ان کی بہن حنا جاوید کو راولپنڈی میں قتل کردیا گیا ہے، جن کی تشدد زدہ لاش عسکری اپارٹمنٹ، راولپنڈی میں ان کے گھر کے باتھ روم سے ملی
حنا جاوید کے بھائی فہد جاوید کے مطابق صبح چھ بج کر ترپن منٹ پر انہیں ایک فون کال کے ذریعے اطلاع دی گئی کہ حنا کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آ گیا ہے
جب وہ سات بج کر تئیس منٹ پر وہاں پہنچے تو انہیں بتایا گیا کہ ان کی بہن کی موت واقع ہو چکی ہے
حنا کے خاندان کے مطابق، مقتولہ حنا کے دونوں ہاتھ کپڑے سے پیٹھ کے پیچھے بندھے ہوئے تھے، منہ میں کپڑا ٹھونسا گیا تھا اور ان کی گردن کے گرد ایک تار لپیٹ کر اسے باتھ روم کے شاور کے ساتھ باندھا گیا تھا، جسم پر شدید تشدد کے نشانات تھے، جن میں چھریوں کے وار، جسم پر نیل، اور ٹوٹی ہوئی گردن شامل تھی.
شہرام کے بھائی فہد جاوید ملک کی مدعیت میں مقدمہ حنا جاوید کے شوہر فیصل اصغر امام، ان کے سسر اصغر علی فیاض اور گھریلو ملازم ذیشان ارشد کے خلاف درج کیا گیا ہے
عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق، پینتالیس سالہ حنا جاوید کسی نیم سرکاری ادارے میں کام کرتی تھیں جبکہ فیصل اصغر امام پرائیویٹ یونیورسٹی میں پڑھاتا رہا ہے اور اس کی ملازمت مستقل نہیں رہی
بظاہر یہ گھریو تشدد کا کیس ہے، جس میں معاملہ سوچے سمجھے قتل تک جا پہنچا، مزید تفصیلات ابھی آنی ہیں، لیکن ایف آئی آر میں نامزد تین افراد میں سے ایک یعنی فیصل اصغر کے والد اصغر علی فیاض ابھی گرفتار نہیں ہوئے اور آزاد گھوم رہے ہیں
چند دن پہلے کی بات ہے اسی شہر راولپنڈی میں باپ، شوہر اور اہل خانہ نے حنا ظریف کو قتل کیا گیا تھا، اس کا قصور یہ تھا کہ اس نے َبردستی کی شادی سے انکار کرکے اپنے شوہر سے خلع مانگی تھی.
یہ معمولی جرائم نہیں، جس میں چند لوگوں کو برا بھلا کہہ کر دل کی بھڑاس نکالی جائے اور بات ختم.
یہ ہمارے سماج میں سرایت کیے ہوئے گہرے اور ہولناک فساد کا اظہار ہے۔ یہ زوال ہمارے اعلیٰ تعلیمی اداروں، بااثر گھرانوں اور دانشورانہ حلقوں کے چمکتے دمکتے فرش کی تہہ اور دیواروں کے بیچ خاموشی سے پھیل رہا ہے
گھر تو آپ کی پناہ گاہ ہوتا ہے اور گھر والے یعنی اہل خانہ سیف سپیس (safe space)، جہاں سے ہمیں حوصلہ اور طاقت ملتی ہے کہ ہم جہاں بھر کی نا انصافی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں، لیکن ہمارے ہاں وہی گھر خاموش مقتل بن چکے ہیں۔
یہاں مردانہ انا، بے لگام غصہ اور گھریلو تشدد چار دیواری کے پیچھے پنپتا ہے۔ اعلیٰ تعلیمی ڈگریاں کسی پرتشدد ذہن کو روک نہیں سکتیں، اور نہ ہی پیشہ ورانہ کامیابی کسی عورت کو قتل سے تحفظ فراہم کر پائی ہے
شاہرام اظہر، فہد جاوید اور صباح ملک کی جانب سے جاری کردہ ان کے خاندان کے باضابطہ بیان نے اس سانحے کی سنجیدگی کی طرف توجہ دلائی ہے
یہ واقعہ کوئی الگ تھلگ حادثہ نہیں، بلکہ ایک خوفناک اور مسلسل دہرائے جانے والے سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے۔ حنا کے شوہر، یونیورسٹی پروفیسر، جن کی ذمہ داری اگلی نسل کی معمار سازی تھی، ان پر ان کے قتل کا الزام ہے، ان کے خاندان نے ایک اور مبینہ ملزم اور بیٹے کے شریک جرم ہونے کے الزام میں حنا جاوید کے سسر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ادھورا احتساب دراصل کوئی احتساب نہیں ہوتا
یہ ہولناک سلسلہ کوئی نیا نہیں ہے۔ تین سال قبل، ہم نے یہی درندگی سارہ انعام کے کیس میں دیکھی تھی۔ 37 سالہ سارہ انعام ابوظہبی میں ایک انتہائی کامیاب اکانومسٹ کے طور پر کام کر رہی تھیں اور جولائی 2022 میں شاہنواز امیر (ایاز امیر کے بیٹے) سے شادی کی تھی
جب ان کے شوہر نے واٹس ایپ پر طلاق کے پیام بھیجے، تو سارہ وضاحت کیلئے اسلام آباد کے علاقے چک شہزاد میں واقع اس کے فارم ہاؤس پہنچیں۔ وہاں مالی معالامے پر تنازع کے بعد ان کے شوہر نے ان پر سنگین تشدد کیا اور ڈمبلز (Dumbles) کی ضرب سے انہیں قتل کر دیا اور پھر ان کی لاش کو باتھ ٹب میں چھپا دیا تھا.
نور مقدم کے قتل کا واقعہ بھی اتنا پرانا نہیں، جسے ان کے ایک بااثر اور امیر دوست ظاہر جعفر نے اسلام آباد میں اپنے گھر میں بدترین تشدد اور حراست میں رکھنے کے بعد بے دردی سے قتل کر دیا تھا، بے پناہ دولت اور غیر ملکی تعلیم بھی وحشیانہ ذہنیت کو بدلنے میں ناکام رہی اور جعفر خاندان آخر وقت تک اسے بچانے میں لگا رہا
ان جرائم کا دوش تعلیم کی کمی، پسماندگی، جہالت، قدامت پسندی وغیرہ کو بھی نہیں دے سکتے، ایسے بہت سے جرائم میں بظاہر پڑھے لکھے اور مستحکم پس منظر رکھنے والے افراد ملوث ہوتے ہیں، جو شکوک و شبہات کی بنیاد پر یا مکمل تسلط و کنٹرول برقرار قائم کرنے کی کوشش میں تشدد کا سہارا لیتے ہیں
ان تمام واقعات کا بغور جائزہ لیا جائے تو ان کے درمیان خوفناک یکسانیت نظر آتی ہے۔ ہمارا معاشرہ عام طور پر اعلیٰ تعلیمی ڈگریوں، عہدوں اور خاندانی رتبے کو اخلاقی تربیت اور انسانیت کا متبادل سمجھ لیتا ہے، حالانکہ پروفیسر، ماہرین اور بااثر شخصیات بھی اسی مردانہ بالادستی کے نظام کا حصہ ہیں جو مرد کو عورت پر بلا شرکتِ غیرے اختیارات دیتا ہے
پیشہ ورانہ قابلیت تکنیکی صلاحیت تو سکھاتی ہے، لیکن وہ ہمدردی، جذبات پر قابو اور انسانی زندگی کا احترام ن سکھاتی
ایسے واقعے میں یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ گھریلو تشدد کبھی بھی اچانک جنم نہیں لیتا۔ ایسے کیسز میں ملزم کے ارد گرد موجود لوگ اور خاندانی ماحول ابتدائی اشاروں کو نظر انداز کرتے ہیں، یا تشدد کا شکار خواتین بات بگڑنے کے ڈر یا رشتہ بچانے کی خواہش میں جسمانی اور نفسیاتی تشدد کی پردہ پوشی کرتے ہیں یا قانونی کارروائی میں رکاوٹ بنتے ہیں
مالی خودمختاری اور اعلیٰ عقل و فہم بھی خواتین کو اس دباؤ اور نظام کے جبر سے محفوظ نہیں رکھ سکتے۔ چاہے وہ مالی تنازعات ہوں، شادی کو بچانے کا شدید سماجی دباؤ ہو یا خودمختاری کا اظہار، باصلاحیت اور تعلیم یافتہ خواتین کو اکثر اس وقت نشانہ بنایا جاتا ہے جب وہ مرد کے تسلط یا غلط مطالبات کو چیلنج کرتی ہیں
حنا جاوید کے خاندان نے اپنے بیان میں بالکل درست موقف اختیار کیا کہ گھر کے اندر عورت پر تشدد کوئی خانگی یا ذاتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سنگین جرم ہے
حنا جاوید، سارہ انعام، نور مقدم اور حنا ظریف کو پورا حق حاصل تھا کہ وہ زندہ رہتیں، اپنے کریئر بناتیں اور اپنے خواب پورے کرتیں، انہیں زندگی سے محروم کرنے والے مجرموں کے خلاف مؤثر کاروائی ہونی چاہیے۔ گھریلو کشیدگی کو چار دیواری کے اندر دبانے کی روایت خواتین کو بے یار و مددگار چھوڑ دیتی ہے اور مجرموں کو شہہ دیتی ہے کہ وہ سب کچھ کرکے بھی بچ نکل سکتے ہیں.

