عدالتی حکم کو سال ہو گیا مگر کمیشن نہ بنایا گیا: مبینہ ’توہینِ مذہب گینگ‘ کے متاثرین
اسلام آباد میں مبینہ ’توہینِ مذہب گینگ‘ کے متاثرین کے اہل خانہ نے ایک پریس کانفرنس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر عملدرآمد نہ ہونے اور حکومت کی جانب سے اقدامات نہ کیے جانے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔
متاثرین کے اہل خانہ کے وکیل عثمان وڑائچ نے بتایا کہ ’اسلام آباد ہائیکورٹ نے جولائی 2025 میں حکم دیا تھا کہ ایک انکوائری کمیشن تشکیل دیا جائے تاکہ اس بات کی تحقیقات کی جا سکیں کہ آیا ان نوجوانوں کو کسی سازش کے تحت (خواتین کے ذریعے) پھنسایا گیا تھا اور آیا اس میں وہ "توہینِ مذہب گینگ” ملوث تھا جس میں مبینہ طور پر ایف آئی اے (FIA) کے اہلکار بھی شامل تھے۔‘
عثمان وڑائچ ایڈووکیٹ نے بتایا کہ ’نہ تو کمیشن تشکیل دیا گیا ہے اور نہ ہی ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد اس مقدمے کی سماعت کے لیے کوئی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’سنہ 2026 میں یورپی یونین کے کمیشن نے بھی بلاسفیمی بزنس گینگ کا نام لیا- ہماری اطلاعات کے مطابق ایف آئی اے کے اندر بھی اس حوالے سے انکوائری کی گئی اور کچھ اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی ہوئی- سنہ 2026 میں توہین مذہب کے مقدمات کے اندراج کی شرح کم ہوئی ہے- یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بلاسفیمی کے اتنے کیسز نہیں ہو رہے تھے جتنے اس گینگ نے شہریوں کو پھنسانے کے لیے توہین مذہب کے قانون کا غلط استعمال کیا-‘
متاثرین کے وکیل نے کہا کہ ’تمام بین الاقوامی اقدامات کے باوجود اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگوں سے ہم چوتھی بار پوچھنے کے لیے یہاں (پریس کانفرنس) کرنے آئے ہیں کہ آپ کے کانوںپر جوں ابھی تک کیوں نہیں رینگتی، کیوں نہیں آپ اُن 700 سے زائد بچوں کی داد رسی کے لیے سامنے کیوں نہیں آ رہے جو بلاسفیمی کے جھوٹے کیسز میں پھنسائے گئے تھے-‘

