اسماء مشتاق کی میت لانے کے لیے 30 لاکھ کا مطالبہ، حقیقت کیا ہے؟
پاکستان کی سات ہزار میٹر بلند چوٹی سپانتک کو سر کرنے کے بعد اُترتے وقت بیماری کے باعث جان سے جانے والی کوہ پیما ڈاکٹر اسما مشتاق کی میت تاحال پہاڑ سے نہیں اُتاری جا سکی۔
اس حوالے سے پاکستان میں کوہ پیمائی کی قومی فیڈریشن اور قراقرم کے پہاڑوں میں کوہ پیماوں سے منسلک الپائن کلب کے سیکریٹری جنرل نے ایاز شگری نے ایک بیان میں کہا کہ
ڈاکٹر اسماء مشتاق کی میت تقریباً 6,400 میٹر کی بلندی پر موجود ہے۔ لاش کو واپس لانے کے لیے جمعے کو اوپر جانے والی ٹیم سنیچر کو کیمپ 2 تک پہنچ گئی تھی، لیکن شدید برف باری کے باعث آپریشن روک دیا گیا ہے۔
بیان کے مطابق ٹیم کو ہدایت کی گئی کہ وہ بیس کیمپ واپس آ جائے اور موسم کے سازگار ہونے کا انتظار کرے۔
ایاز شگری کا کہنا تھا کہ فوج کے تعاون سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو مشن کی منظوری کا عمل بھی جاری ہے۔
الپائن کلب کے مطابق میت لانے کے آپریشن کو ڈاکٹر اسماء کی ہائر کردہ ایکسپیڈیشن کمپنی، محکمہ سیاحت، مقامی حکومت اور الپائن کلب پاکستان سمیت تمام متعلقہ اداروں کے اشتراک سے مربوط کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ لاہور سے تعلق رکھنے والی کوہ پیما کی میت لانے والی ٹیم مختلف ٹیموں کے کوہ پیماؤں پر مشتمل ہے۔
الپائن کلب کے مطابق اس سے قبل یہ اطلاع ملی تھی کہ چوٹی سر کرنے کے بعد ڈاکٹر اسماء ‘ہائی الٹیٹیوڈ سکنس’ (بلندی کی وجہ سے ہونے والی بیماری) کا شکار ہو گئی تھیں۔ ان کی موت کے حالات، نیز ایکسپیڈیشن کمپنی کے رویے اور ردعمل کی مکمل تحقیقات اس وقت کی جائیں گی جب ٹیمیں بحفاظت نیچے آ جائیں گی اور ان کی میت منتقل کر لی جائے گی۔
ایاز شگری کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس تحقیقات کے نتائج کی روشنی میں کوئی بھی ضروری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ یہاں ‘الپائن کلب آف پاکستان’ کے کردار کی وضاحت کرنا بھی ضروری ہے۔ الپائن کلب کوہ پیمائی اور سپورٹ کلائمبنگ کے لیے پاکستان کی قومی فیڈریشن ہے۔ یہ کوئی ایسی ریسکیو تنظیم نہیں ہے جس کے پاس مخصوص وسائل موجود ہوں۔
کلب کے سیکریٹری جنرل کے مطابق تلاش، بچاؤ اور دیگر متعلقہ سرگرمیاں حکومتی وسائل پر منحصر ہوتی ہیں۔ پاکستان میں فی الحال بلندی پر ریسکیو کرنے والا کوئی مخصوص اور باقاعدہ نظام موجود نہیں ہے۔ ہم متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر ایک مؤثر ریسکیو فریم ورک کی تشکیل اور کلب کی نئی قیادت کے تحت ملک کے کوہ پیمائی کے بنیادی ڈھانچے میں بہتری لانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پر اس حوالے سے گزشتہ دو دنوں سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ڈاکٹر اسما مشتاق کی میت پہاڑ سے نیچے لانے کے لیے اُن کے خاندان سے 30 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا گیا۔
اس بارے میں جب پاکستان24 نے کوہ پیما آصف بھٹی سے پوچھا تو اُن کا کہنا تھا کہ ہزاروں میٹر بلند پہاڑوں سے زخمی ہونے والے کوہ پیماوں کو تو مدد کر کے واپس لایا جا سکتا ہے مگر اتنی بلندی پر موجود کسی بھی میت کو نیچے لانے کے لیے ریکوری مشن پر اخراجات آتے ہیں اور یہ کوئی انہونی بات نہیں۔
عالمی شہرت یافتہ کوہ پیما ساجد سدپارہ نے فیس بُک پیج سکردو ٹی وی کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ دنیا بھر میں ہزاروں میٹر اونچے پہاڑوں پر حادثات ہوتے ہیں اور ابھی حال ہی براڈ پیک پر مارے جانے والے 10 کوہ پیماوں کی لاشوں کی تلاش اور میتوں کو نیچے لانے پر اخراجات آئے تھے اور اس کی ادائیگی اُن کی گلوبل انشورنس نے کی تھی۔
ساجد سدپارہ کا کہنا تھا کہ جب وہ کے ٹو سے اپنے والد کی میت نیچے لانے کے مشن پر گئے تھے تو اپنے ساتھ تین پورٹر لے گئے تھے جن کو معاوضہ دیا گیا تھا۔
ساجد سدپارہ کے مطابق اتنی بلندی پر سامان لے کر جانا، دو تین دن گزارنا بغیر خرچ کے ممکن ہی نہیں، اور اس کے علاوہ کوہ پیمائی کے آلات بھی درکار ہوتے ہیں جبکہ میت کو نیچے لانا ایک انتہائی مشکل کام ہے۔
ادھر پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا ہے کہ اسما مشتاق کی میت کو لانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں اور پاکستان آرمی کے ہیلی کاپٹر کو بھی اس کے لیے مختص کیا گیا ہے-