سرحد یونیورسٹی، کرنل اور طلبہ: اے وحید مراد کا کالم
چھوٹی خبر ذرا دیر سے اور بڑی خبر تو فوری بریکنگ نیوز کی سرخیوں اور نیوز اینکر کی چیختی آواز کے ساتھ ٹی وی سکرینز کو لال پیلا کر دیتی تھی۔ یہ ابھی ماضی قریب کا قصہ ہے، مگر قصہ پارینہ نہیں۔
اس پر معترض صاحبانِ اقتدار کی دلیل تھی کہ معاشرے میں ہیجان پھیلتا ہے۔ اور پھر پاکستان میں باقاعدہ اور منظم طریقے سے صحافت، میڈیا اداروں اور صحافیوں کو تقریبا ختم کر دیا گیا۔
مگر اب اس کے باضابطہ نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں۔ یہ ریزلٹ پاکستان کا سوشل میڈیا روز سناتا ہے۔
سوشل میڈیا پر بھی وہی نیوز چینلز کی بریکنگ نیوز کی دوڑ والا ٹرینڈ آ گیا ہے جس طرح ایک وقت تھا کہ ایک دوسرے سے بازی لینے کے چکر میں کچھ کا کچھ نشر کر دیتے تھے۔ مگر نیوز چینلز کی 24 گھنٹے اور سات دنوں کی مسلسل نشریات میں یہ کبھی کبھار ہوتا کیونکہ ایک تو چینلز کی تعداد اتنی زیادہ نہیں، اور دوسرا وہاں کسی حد تک ایڈیٹر یعنی گیٹ کیپر کا کردار ابھی موجود تھا۔ خبر رپورٹر سے ہوتے ڈیسک پر پہنچتی، تین، چار صحافیوں کی نظر سے گزرتی جن کا بہت کم ہی سہی مگر کچھ تجربہ ہوتا تھا۔
پاکستان کو عظیم تر بنانے کا خواب دیکھنے والوں نے مگر یہ دلیل دی کہ معلومات کا یہ سیلاب روکنا ضروری ہے، اقتدار پر قابض رہنے کے لیے اپنی پسند کی انفارمیشن ہی شہریوں تک پہنچانے کی بے لگام خواہش کو طاقت کے ذریعے عملی جامہ پہنا دیا گیا۔
اب میڈیا کے باضابطہ اداروں یعنی اخبارات اور نیوز چینلز کسی بھی احتجاج کی خبر بڑے گھر کی اجازت اور منظوری کے بغیر شائع و نشر نہیںکرتے۔ اور جب خبر میڈیا میں نہیں آتی تو سوشل میڈیا پر چھا جاتی ہے۔
معاشی مسائل کا کون شکار نہیں، اور کم وقت میں زیادہ کمانے کی خواہش کسے نہیں ہوتی؟
سوشل میڈیا پر اب صحافی بھی کانٹینٹ کریئیٹرز بن گئے ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ فلاں موضوع ٹرینڈنگ ہے، فلاں واقعہ زیرِبحث ہے اور فلاں ویڈیو وائرل ہے تو پیچھے کیوں رہیں۔ کچھ لوگ ریچ بڑھانے کے شوقین ہوتے ہیں، اور بعضوں کو ایکس کے بعد فیس بُک کی موناٹائزیشن نئی نئی ملی ہے تو جب ہر پوسٹ کچھ سینٹ کی کمائی دکھائی ہے تو اگلی پوسٹ تیار کی جا رہی ہوتی ہے۔
پاکستان کے سوشل میڈیا پر سرگرم عام صارفین کے ساتھ اب صحافیوں میں بھی یہ بیماری عام ہوتی جا رہی ہے کہ تبصرےٹھوک دیتے ہیں اور حقائق تک پہنچنے کی کوشش نہیں کرتے۔
عموما نظرانداز کر دیتا ہوں، مگر اس بار بعض سینیئر اور اچھے خاصے سمجھدار صحافیوں نے تبصرہ، تجزیہ درست حقائق تک رسائی کے بغیر ہی کر لیا، جس پر بات کی جانی ضروری ہے۔
جب اس طرح کی کوئی خبر آئے، ویڈیوز وائرل ہو تو عام صارفین کے برعکس صحافی کی ذمہ داری سب سے زیادہ ہوتی ہے کہ حقائق تک پہنچنے کے بعد اُس کو پوسٹ کرے یا تبصرہ و تجزیہ کرے۔
اب کیا سینیئر صحافیوں کو بنیادی سبق دوبارہ پڑھایا جائے کہ ایسے مواقع پر متعلقہ تھانے سے رابطہ کیا جاتا ہے، اور فریقین سے اُن کا موقف پوچھا جاتا ہے۔ ویڈیوز دیکھ کر، اُن میں بولنے والے افراد کو سُن کر بات اُن سے منسوب کی جاتی ہے۔
سرحد یونیورسٹی میں فوجی وردی پہنے کرنل کی طلبہ کے ساتھ دھکم پیل، ہاتھا پائی اور پھر فائرنگ کی ویڈیو والے معاملے میں بھی وہی کچھ ہوا جو سوشل میڈیا والے کرتے ہیں۔
پہلے ویڈیو وائرل ہوئی، پولیس کی جانب سے کارروائی کا اعلان کیا گیا۔ سوشل میڈیا کے صارفین نے لعن طعن کی، ٹرینڈ بننا شروع ہوا تو دوسری طرف کا موقف اُسی مخصوص انداز میں سامنے آ گیا جو کچھ عرصے سے ہوتا آ رہا ہے۔
چھ گھنٹے کی تاخیر کے بعد کرنل کی بیوی کو نرغے میں لینے والی کہانی، اور کرنل کے دفتر سے گھر جاتے ہوئے پریشان بیوی کی فون کال پر فوری کارروائی کی داستان سوشل میڈیا ٹرولز تک پہنچائی جا چکی تھی۔ اور پھر وہ ہر جگہ اُسی کو کاپی پیسٹ کر رہے تھے۔
اس معرکے میں جو بھی فتح یاب ہو، یا پھر اس کے نتائج آنے سے قبل ہی کسی اور واقعے کی طرف سب کا رُخ ہو جائے، اور یہ سوشل میڈیا کا گرم موضوع نہ رہے۔ یہ طے ہو چکا ہے کہ سینیئر صحافی اپنا وقار اور اے آئی سے تحریریں لکھوانے والے نوجوان رپورٹرز مواد (کانٹینٹ) کی تخلیق کی اس دوڑ میں اپنی ساکھ داؤ پر لگا چکے ہیں۔
جب آپ یہ لکھیں کہ کرنل کی جگہ آپ ہوتے تو کیا کرتے، اور ساتھ ہی کہیں کہ میں ہوتا تو وہی کرتا جو فوجی افسر نے کیا۔ اور جب آپ یہ نہ پوچھ سکیں کہ جب پولیس وہاں موجود تھی تو ایک کرنل کو باوردی اور اسلحہ کے ساتھ یونیورسٹی میں جانے کی کیا ضرورت تھی، تو آپ دراصل صحافی نہیں میٹرک پاس سوشل میڈیا صارف ہیں۔
آخر میں ایک بار پھر سب کی معلومات کے لیے یہ معاملہ اچانک شروع نہیں ہوا جو کرنل اپنی اہلیہ کے فون پر دوڑے گئے، اُن کی اہلیہ نے واقعے سے تین دن قبل پولیس کو یونیورسٹی کے ایک شعبے کے سربراہ کے خلاف درخواست دی ہوئی تھی۔
اب بہت سے لوگ اس واقعے پر یہ تبصرے کرنے میں حق بجانب نہیں کہ جو آئین اپنی مرضی کا مانتے ہیں وہ درخواستوں پر پولیس کی کارروائی تک انتظار کی زحمت کیوں اُٹھائیں۔ اور اس پر آپ اپنی رائے رکھنے میں آزاد ہیں مگر حقائق کو توڑنے، مروڑنے میں نہیں۔

