’میں ہوں نا‘، 14 دن سے لاپتہ معصوم بچی کی لاش ملنے پر ہری پور کے ڈی پی او غُصے میں
خیبر پختونخوا کے ضلع ہری پور میں چار سالہ آیت نور کے لاپتہ ہونے کے 14 دن بعد لاش ملنے پر پولیس کی کارکردگی پر سوالات اُٹھائے جا رہے ہیں اور ڈسٹرکٹ پولیس افسر شفیع اللہ گنڈاپور کے شدید غصے میں آنے کی ویڈیو بھی وائرل ہے-
شہریوں کے مطابق ایک مقامی صحافی کی حاصل کی گئی سی سی ٹی وی فوٹیج CCTV نے لاپتہ آیت نور کے کیس کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے بعد پولیس نے ملزمان کے بیانات کی روشنی میں معصوم بچی کی بوری بند لاش ایک کنویں سے برآمد کی-
کھاد فیکٹری گراؤنڈ میں نمازِ جنازہ اور تدفین
معصوم آیت نور کی نمازِ جنازہ اور تدفین کے موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے جب شہریوں کی ایک بڑی تعداد اُن کے والد سے اظہار تعزیت کے لیے پہنچی-
ایف آئی آر کا وقت
آیت نور 10 اگست کو شام 5 سے 6 بجے کے درمیان گھر سے نکلی اور لاپتہ ہوگئی تھی جبکہ اس کے والد شفیق کی جانب سے پولیس کو درخواست رات تقریباً 8 سے 9 بجے کے درمیان دی گئی۔ اس کے بعد اگلی صبح پانچ بجے ایف آئی آر درج کی گئی۔
پیر کی رات جب ڈی پی او شفیع اللہ گنڈاپور سے مقامی صحافی نے اس حوالے سے سوال کیا تو وہ سخت غصے میں آ گئے اور کہا کہ انہوں نے لاش برآمد کی، اور وہ یہیں موجود ہیں-
پولیس افسر سے پوچھا گیا تھا کہ ’آپ یہیں پر ہوتے ہیں‘، تو اُنہوں نے گاڑی میں بیٹھنے سے قبل رُک کر سخت غُصے میں تین بار دہرایا کہ ’میں ہوں نا-‘
پولیس نے اس مقدمے میں دو ملزمان کو گرفتار کیا ہے جو مقامی نوجوان ہیں-

