اہم خبریں

پاکستان میں‌ کم عمر صارفین کے سوشل میڈیا استعمال کو روکنے کی درخواست پر حکومتی محکموں‌ سے جواب طلب

اگست 31, 2026

پاکستان میں‌ کم عمر صارفین کے سوشل میڈیا استعمال کو روکنے کی درخواست پر حکومتی محکموں‌ سے جواب طلب

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کے لیے دائر درخواست پر وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی، وزارت اطلاعات، وزارت داخلہ، وزارت قانون، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 15 روز میں جواب طلب کیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی ہے جس میں بچوں کے آن لائن تحفظ کے لیے مناسب قانون کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

شہری ناصر وقاص کی جانب سے دائر کی گئی اس درخواست میں‌ وکلا یحییٰ فرید خواجہ اور جلال حیدر ملک اُن کی نمائندگی کر رہے ہیں-

درخواست میں بچوں کو سائبر بُلیئنگ، آن لائن ہراسانی، استحصال، نقصان دہ مواد اور دیگر ڈیجیٹل خطرات سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے قانون سازی کی ہدایات جاری کرنے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے عدالتی حکم جاری کرے کہ ایسا طریقہ کار اپنایا جائے جس کے تحت والدین کو بچوں کے سوشل میڈیا پر کنٹرول حاصل ہو اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔

آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، برطانیہ اور دیگر متعدد یورپی ملکوں‌ کی جانب سے ماضی قریب میں‌ اسی طرح کی قانون سازی کے بعد پاکستان میں بچوں اور نو عمر افراد کے خلاف آن لائن ہراسانی، بلیک میلنگ اور دیگر ڈیجیٹل جرائم کے بڑھتے ہوئے خدشات کے پیشِ نظر سوشل میڈیا کے محفوظ استعمال پر زور دیا جاتا رہا ہے۔

آسٹریلیا میں سنہ 2024 کو کم عمر افراد پر ٹک ٹاک، فیس بک، انسٹاگرام اور ایکس جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا قانون منظور کیا گیا تھا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے