فاروق نائیک کے 50 کروڑ کیسے آئے
جعلی بنک اکاؤنٹس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں زرداری کے وکیل اور سابق چیئرمین سینٹ فاروق ایچ نائیک کی دولت پر بھی رائے دی ہے ۔
رپورٹ کے مطابق بیرون ملک پیسہ لے جا کر واپس لایا گیا اور یہ سب منی لانڈرنگ مختلف طریقوں سے کی گئی ۔ جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق میسرز اورینٹ انرجی سسٹم نے تیرہ مختلف رقوم باہر سے بھیجیں جس میں سپنٹیکس ٹیکسٹائل ٹریڈنگ ایل ایل سی دبئی نے تین رقوم بھیجیں ۔ حوالہ ہنڈی کے ذریعے 8 لاکھ ڈالرز کی فاروق نائیک کے بیٹے عباد کے اکاؤنٹ میں آئی ۔
رپورٹ کے مطابق سندھ حکومت نے 2014 سے 2018 کے دوران فاروق نائیک کی لا کمپنی کو قانونی خدمات کے عوض 50 کروڑ روپے بھی ادا کئے ۔ اور اس دوران تمام مقدمات اسی کمپنی کو دیے جاتے رہے ۔

