’گوگل اور فیس بک کو ماموں بنا لیا‘
یورپی ملک لیتھوینیا کے ایک شہری نے جعلی کمپنی بنا کر امریکی کمپنیوں گوگل اور فیس بک سے 12 کروڑ دس لاکھ ڈالر کا فراڈ کرتے ہوئے ٹیکنالوجی کی دنیا کے بڑے ناموں کی سیکورٹی کو بے نقاب کیا ہے ۔
بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق لیتھوینیا کے 50 سالہ شہری ایفالڈیس ریما نے گوگل اور فیس بک کو جعلی اکاؤنٹ اور کمپنی کے ذریعے سے شکار بنایا جس سے رقم واپسی کے لیے دونوں بڑی کمپنیوں کو عدالت کا رخ کرنا پڑا ہے ۔
ایفالڈیس ریما نے یہ جعلی سازی سنہ 2013 سے 2015 کے دوران کی جس کا انکشاف اس کی معمولی غلطی سے ہوا ۔ معلوم ہونے پر گوگل اور فیس بک نے ملزم کے خلاف نیویارک کی عدالت میں منی لانڈرنگ کا مقدمہ دائر کیا ۔
پولیس نے ملزم کو گرفتار کیا ہے اور عدالت میں الزام ثابت ہونے پر اسے 30 برس قید تک کی سزا ہوسکتی ہے۔ ایفالڈیس پر منی لانڈرنگ اور لوگوں کے اہم ڈیٹا چوری کرنے کے الزامات کی فرد جرم عائد کی گئی ہے ۔
رپورٹ کے مطابق ملزم نے گوگل سے 9 کروڑ 80 لاکھ جبکہ فیس بک سے2کروڑ 30 ملین ڈالر کی چوری کی۔ بلومبرگ کے مطابق ملزم نے ’کونٹا کمپیوٹرز‘ کے نام سے فرضی کمپنی کی بنیاد ڈال کر گوگل اور فیس بک سے متعدد معاہدے کئے۔
ایفالڈیس ریما اور اس کے جعل ساز نیٹ ورک کی نشاندھی اس وقت ہوئی جب ا ن کے اکاﺅنٹ میں رقم منتقلی کے بعد گوگل کے ایک اہلکار کو شک ہوا اور انہوں نے کمپنی کا مارکیٹ سروے حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔
گوگل اور فیس بک کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے ملزم کے اکاﺅنٹ میں جمع کرائی گئی رقوم واپس اپنے اکاﺅنٹ میں منتقل کرا لی ہیں ۔

