لندن سے نائجیریا پیزا ڈیلیوری سروس
نائجیریا کے لوگ لندن سے پیزا آرڈر کر رہے ہیں جنہیں برٹش آئیرویز کے ذریعے 3000 میل دور ملک میں ڈیلیور کیا جا رہا ہے۔
برطانوی اخبار انڈیپنڈنٹ میں چھپنے والی ایک رپورٹ کے مطابق نائیجیریا کے وزیر زراعت کا کہنا ہے کہ افریقی قوم کے انٹرنیشنل ٹیک اوے کی عادت حکومت کے لیے بہت زیادہ جنجھلاہٹ اور پریشانی کا سبب بن رہی ہے۔
عنودو عقبہ کے مطابق حکام اس عادت کو ختم کر نے کے لیے بے تابی سے کوششیں کر رہے ہیں۔
ابوجہ میں سینیٹ کے ایک اجلاس کے دوران 71 سالہ سیاستدان کا کہنا تھا کہ "وہ اسے لندن سے خریدتے ہیں اور صح برٹش ائیرویز کی فلائیٹ کے ذریعے منگواتے ہیں اور جاکر اسے ائیرپورٹ سے اٹھاتے ہیں۔”
"یہ بہت ہی جنجلاہٹ والی کیفیت ہے اور ہیمیں اس سے جلدی سے ختم کرنا ہوگا”۔
اگرچہ عقبہ نے وضاحت نہیں کی کہ کون سے لوگ یہ آرڈر کر رہئے ہیں لیکن ان کے بیان سے کئی ایک کھٹکے اور سوشل میڈیا پر اس حوالے سے ملےجلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
ٹویٹر پر ایک صارف نے برٹش ائیرویز کو ٹیگ کرکے لکھا کہ ڈئیر ہمیں پتا ہی نہیں کہ برٹش ائیرویز نائجیریا میں پیزا ڈیلیوری کی سروس چلا رہی ہے۔ کیا اس کے لیے کوئی ایپ ہے۔
ایک دوسرے صارف نے کہا کہ اس میں کونسا جرم ہے کیا وہی برٹش ائیرویز کی فلائیٹ واپسی میں بائجیریا سے تازہ سبزیاں لیکر واپس نہیں جاتی۔
وزیر کا بیان نائیجیرین حکومت کے برآمدات مین کمی کے پلان کے حوالے سے تھا جس کے تحت حکومت ہر چیز یعنی ٹماٹر کے پیسٹ سے لیکر چاول تک ہاہر سے منگانے کے اس رویے کی حوصلہ شکنی کرنا چاہتی ہے جس سے بہت سے نائیجیرین اونچے اسٹیس کی علامت سمجھتے ہیں۔

