اہم خبریں

’براڈ پیک‘ پر برفانی تودہ گرنے سے 10 کوہ پیما دب گئے، چار کی لاشیں برآمد

جولائی 31, 2026

’براڈ پیک‘ پر برفانی تودہ گرنے سے 10 کوہ پیما دب گئے، چار کی لاشیں برآمد

پاکستان کے شمالی علاقے میں واقع دُنیا کی 12 ویں بلند ترین چوٹی براڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے کے بعد معروف نیپالی کوہ پیما نرمل پرجا سمیت دس لاپتہ ہونے والے کوہ پیماؤں میں‌ سے چار لاشیں تلاش کر لی گئی ہیں۔

پاکستان الپائن کلب کے مطابق لاپتہ کوہ پیماؤں کی تلاش کے لیے آرمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے کوشش جاری ہے اور اس مہم کی قیادت پاکستانی کوہ پیما سرباز خان کر رہے ہیں جنھیں شمشال گاؤں سے تعلق رکھنے والے کوہ پیماؤں کی مدد حاصل ہے۔

براڈ پیک کو کوہ پیمائی کی مہمات کے لیے مشکل ترین پہاڑوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے اور یہاں برفانی تودہ گرنے کا واقعہ جمعرات کی دوپہر پیش آیا تھا۔

قبل ازیں‌ الپائن کلب نے کہا تھا کہ کوہ پیما قراقرم کے پہاڑی سلسلے میں واقع 8047 میٹر بلند چوٹی پر کیمپ ٹو سے کیمپ تھری کی جانب بڑھ رہے تھے کہ برفانی تودے کی زد میں آئے جس کے بعد ان کے ساتھ رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔

گلگت بلتستان کے وزیرِ سیاحت نیک نام کریم نے تصدیق کی ہے کہ لاپتہ کوہ پیماؤں کی تلاش کے لیے جاری کارروائی کے دوران اب تک چار لاشیں ملی ہیں جن میں سے دو کی شناخت کر لی گئی ہے جبکہ باقی دو کی شناخت کی کوشش کی جا رہی ہے تاہم لاشوں کی باقیات کی حالت کی وجہ سے فوری شناخت ممکن نہیں۔

جمعے کی صبح شروع کی گئی سرچ اینڈ ریسکیو کی کارروائیوں کے دوران امدادی ٹیموں کو چار کوہ پیماؤں کی لوکیشن معلوم ہوئی تاہم اس وقت اُن کے زندہ ہونے کی تصدیق نہیں کی گئی تھی۔

ابتدائی طور پر بتایا گیا تھا کہ تین کوہ پیماؤں کے ٹریکرز تقریباً ساڑھے چھ ہزار میٹر کی بلندی پر نشاندہی کر رہے ہیں۔

نیپالی اخبار ‘کانتی پور’ کی ایک رپورٹ کے مطابق نرمل پرجا کی ٹریکنگ ڈیوائس میں حرکت دکھائی دے رہی ہے۔ نرمل پرجا کے کاروباری شراکت دار منگما گیابو شیرپا نے اخبار کو بتایا کہ ٹریکنگ سسٹم میں ڈیوائس کی پوزیشن تبدیل ہو رہی ہے۔

لاپتہ کوہ پیماؤں کا یہ گروپ نرمل پرجا اور ان کے پانچ نیپالی ساتھیوں، پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی، امریکہ اور عمان سے تعلق رکھنے والی دو خواتین کوہ پیماؤں اور ایک چینی کوہ پیما پر مشتمل ہے۔

پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی کا تعلق ہنزہ سے ہے اور وہ ماضی میں کے ٹو، نانگا پربت، گیشربرم ون اور گیشربرم ٹو جیسے پہاڑ سر کر چکے ہیں۔

عمان کی خاتون کوہ پیما نظیرہ احمد عبداللہ الحارثی 2019 میں ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والی پہلی عمانی خاتون بنی تھیں۔ اس کے بعد انہوں نے دنیا کی کئی بلند چوٹیوں کو سر کیا، جن میں مناسلو، کے ٹو اور نانگا پربت شامل ہیں۔

2022 میں وہ کے ٹو کی چوٹی پر پہنچنے والی پہلی عمانی خاتون بنیں جبکہ 2024 میں انھوں نے نانگا پربت بھی سر کی۔

دوسری خاتون کوہ پیما میلوری گیئس کا تعلق امریکہ سے ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق براڈ پیک مہم پاکستان میں ان کی پہلی انتہائی بلندی والی کوہ پیمائی مہم تھی۔

نرمل پرجا، جنھیں نمز دائی کے نام سے جانا جاتا ہے، کوہ پیمائی کے متعدد ریکارڈز کے مالک ہیں لیکن ان کا سب سے مشہور کارنامہ 2019 میں صرف چھ ماہ میں دنیا کی 14 بلند ترین چوٹیوں کو سر کرنا رہا ہے۔

ان کے علاوہ لاپتہ نیپالی کوہ پیماؤں میں کچھ اور بڑے نام بھی ہیں، جن میں پور بہادر گرونگ جنھیں یُکتا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور کلی پیمبا شیرپا شامل ہیں۔ یکتا انٹرنیشنل فیڈریشن آف ماؤنٹین گائیڈز ایسوسی ایشنز سے سند یافتہ ہیں اور وہ 14 بلند ترین چوٹیاں سر کرنے کا چیلنج مکمل کرنے کے بہت قریب ہیں۔

گزشتہ موسم بہار میں یکتا نے نیپال کی تین آٹھ ہزار میٹر سے بلند چوٹیاں سر کیں اور اس سیزن کے اختتام تک وہ ایورسٹ کی 10 کامیاب مہمات اور آٹھ ہزار میٹر سے بلند پہاڑوں کی 12 کامیاب مہمات اپنے نام کر چکے تھے۔

یکتا اس ٹیم کا بھی حصہ تھے جس نے وہ ایک صدی پرانا جوتا دریافت کیا تھا جس کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ وہ برطانوی کوہ پیما اینڈریو ’سینڈی‘ ارون کا ہے، جو 1924 میں جارج میلوری کے ساتھ ایورسٹ پر لاپتہ ہوئے تھے۔

کلی پیمبا اب تک 15 بار ایورسٹ سر کر چکے ہیں۔ سنہ2021 میں وہ نرمل پرجا سمیت متعدد نیپالی کوہ پیماؤں کے ساتھ کے ٹو کو موسمِ سرما میں سر کرنے کی تاریخی مہم کے رکن بھی تھے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے