نیوز چینلز نے کارکنوں کو مشکل میں ڈال دیا
پاکستان کے نجی ٹی وی چینلز جو اپنے آغاز سے ہی صرف اینکرز کے لیے سونے کی کان ثابت ہوئے ہیں اب کارکنوں کے لیے کوئلے کی کان بن چکے ہیں جو کسی بھی وقت گیس بھرنے یا بیٹھ جانے سے ان کا سانس بند کر دیتے ہیں ۔
تعلیم کا کاروبار کرنے سے ٹی وی چینل بنانے والے کے افسر ملازمین نے ایک رپورٹر کو صرف اس لیے برطرف کر دیا ہے کہ ’وہ اپنے ذاتی خرچ پر کینیڈا کیوں گیا۔‘
بتایا گیا ہے کہ پہلے اس رپورٹر کو چھٹیاں دینے سے انکار کیا گیا اور بعد ازاں کہا گیا کہ وہ بغیر تنخواہ کے 15 چھٹیاں کر سکتا ہے تاہم ملک واپس آنے پر اسے ادارے سے فراغت کا لیٹر تھمایا گیا ۔
ادھر گھی کی فیکٹری سے چینل بنانے والے کے انتظامی افسران نے بھی اپنی پالیسی میں تبدیلی کا عندیہ دیا ہے۔ چینل نے ایک رپورٹر کو اس وجہ سے تحریک انصاف اور وزیراعظم عمران خان کی رپورٹنگ سے ہٹا دیا ہے کہ ’صرف مثبت رپورٹنگ‘ کیوں کر رہے ہیں۔؟
خیال رہے کہ تحریک انصاف اور عمران خان کے لیے اب تک یہ چینل مثبت رپورٹنگ کے لیے ہی مشہور ہے ۔
پاکستان کے مشہور ڈرامہ چینل سے خبروں کا سفر شروع کرنے والے نیوز ٹی وی نے ایک بار پھر چھ کارکنوں کو برطرف کیا ہے جبکہ ۱۳ کارکنوں کی تنخواہیں کم کی ہیں۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ ایک کارکن کی تنخواہ 25 ہزار سے کم کر کے صرف 15 ہزار روپے کر دی ہے جبکہ کئی کارکنوں کی تنخواہیں 50 ہزار سے کم کر کے 40 اور فیصل آباد میں تین کو نوکری سے فارغ کیا ہے ۔

