متفرق خبریں

”یہ تبدیلی آئی ہے“

مئی 6, 2019

”یہ تبدیلی آئی ہے“

پاکستان میں جہاں نئی حکومت کے ساڑھے آٹھ ماہ کے دوران معیشت بحران کا شکار ہے وہیں نجی بینکوں نے بھی قواعد کی خلاف ورزی شروع کر دی ہے ۔

تجزیہ کاروں کے مطابق تحریک انصاف کی حکومت نے وزیر خزانہ بدلنے کے بعد سٹیٹ بنک کا گورنر بھی عالمی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف سے درآمد کیا ہے تاہم مالی امور پر کمزور پڑتی گرفت سے عام شہری پریشانی میں مبتلا ہو گئے ہیں ۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں پیر کی صبح درجنوں نجی بینکوں کی اے ٹی ایم رقم سے خالی پا کر شہری مایوسی اور غصے کا شکار نظر آئے ۔

سیکٹر جی نائن کے مرکز کراچی کمپنی میں پانچ نجی بنکوں کی مشینیں ”آؤٹ آف کیش“ کے ساتھ صارفین کو واپس بھیجتی رہیں ۔

پاکستان ٹوئنٹی فور سے گفتگو کرتے ہوئے ایک صارف محمد شفیق نے بتایا کہ کاروباری مرکز میں واقع نیشنل بنک، سنہری بنک، دبئی اسلامک بنک اور میزان بنک کی اے ٹی ایم میں رقم نہیں تھی جبکہ بنک آف پنجاب کی برانچ میں اے ٹی ایم ہی نہیں ہے ۔

جی نائن سیکٹر میں قائم نجی بنکوں کی شاخیں

نیشنل بنک کی اے ٹی ایم سے صبح نو بجے مایوس نکلنے والے صارف عبداللہ نے کہا کہ ”یہ تبدیلی آئی ہے۔ کسی دن ہم صبح بنک آئیں گے تو یہ کہیں گے کہ واپس جاؤ، کون سے پیسے؟ یہاں آپ کی کوئی رقم نہیں ہے۔“

چار بنکوں کی اے ٹی ایم سے رقم نکالنے کی کوشش کے بعد ناکام کھڑے ایک سرکاری ملازم نے نام شائع نہ کرنے کی شرط پر پاکستان ٹوئنٹی فور کو بتایا کہ مایوسی بڑھ رہی ہے ۔”حکومت کو خود نہیں معلوم کہ اس نے کیا کرنا ہے۔ پتہ نہیں کیا بنے گا۔“

پاکستان ٹوئنٹی فور نے نجی بنکوں کے سٹاف سے اس بارے میں پوچھنے کی کوشش کی تاہم انہوں نے یہ کہہ کر بات کرنے سے انکار کر دیا کہ ان کو میڈیا پر آنے کی اجازت نہیں ہے۔

جی نائن مرکز کراچی کمپنی کے نجی بنک جن کے اے ٹی ایم خالی تھے

ایک نجی بنک کے اہلکار نے کہا کہ دو دن چھٹی کے بعد مشینیں خالی ہونا عام اور معمولی بات ہے تاہم وہ اس حوالے سے سٹیٹ بنک کے قواعد کا حوالہ دینے میں ناکام رہے ۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے