متفرق خبریں

’قتل کیس 47 سال بعد حل کر لیا گیا‘

مئی 7, 2019

’قتل کیس 47 سال بعد حل کر لیا گیا‘

امریکی ریاست انڈیانا میں حکام کا کہنا ہے کہ 1972 میں کیے گئے ایک قتل کے معمے کو حل کر لیا گیا ہے ۔

انڈیانا پولیس کے مطابق 19 سالہ طالبہ پامیلا میلم کا ممکنہ قاتل چھ برس بعد سنہ 1978 میں ایک پولیس مقابلے میں مارا جا چکا ہے۔

ٹیری ہیوٹ کے علاقے کے پولیس سربراہ شان کین کے مطابق پامیلا کے قتل میں شناخت کیے جانے والے شخص کا نام جیفری لین ہینڈ ہے ۔ ’یہ شناخت ڈی این اے اور جینیاتی سائنس کے ذریعے کی گئی ہے ۔‘

امریکی ٹی وی سی بی ایس پر دکھائی گئی ایک پریس کانفرنس میں پیر کو مقتولہ پامیلا کی بہن شارلینی سانفورڈ نے کہا کہ اس واقعہ کو 46 سال، سات ماہ اور 20 دن گزر چکے ہیں ۔ ’ہم میں سے بہت سے افراد اب بوڑھے ہوگئے ہیں اور خیال تھا کہ یہ جانے بغیر ہی مر جائیں گے کہ ہماری بہن کو کس نے قتل کیا ۔‘

شارلینی نے کہا کہ ان کو اس بات کی خوشی ہے کہ قاتل زیادہ عرصہ اچھی زندگی گزارنے کے لیے زندہ نہیں رہا ۔

Pamela Milam
پامیلا میلم کی پولیس ڈیپارٹمنٹ کے پاس موجود تصویر

پولیس سربراہ کا کہنا تھا کہ پامیلا کو آخری بار 15 اپریل سنہ 1972 کی رات انڈیانا سٹیٹ یونیورسٹی سے ایک تقریب کے بعد نکلتے ہوئے دیکھا گیا تھا ۔ ’پامیلا کی نعش اگلی رات ان کی کار کی ڈکی سے ملی تھی۔‘

پولیس چیف کین نے میڈیا کو بتایا کہ ان کے پاس اس قتل کا کوئی گواہ نہیں تھا، نہ ہی کوئی مشکوک فرد ان کے ذہن میں آیا ۔

پولیس سربراہ کے مطابق اس وقت حکام کا خیال تھا کہ قتل کے سات ہفتے بعد یونیورسٹی کی لڑکیوں پر جنسی حملوں کے الزام میں گرفتار شخص نے پامیلا کا قتل کیا ہے مگر ثبوت نہیں تھے اور نہ اس شخص کا قتل سے سرا جوڑا جا سکا ۔

پولیس نے علاقے میں موجود افراد کے ڈی این اے ان جینیاتی شواہد کو ملانے کی سینکڑوں کوششیں کیں جو موقع واردات سے ملے تھے ۔ پولیس چیف کے مطابق مردہ افراد کے ڈین این اے کے علاوہ خاندانوں کے جینیاتی نمونے بھی لیے گئے اور آخر کار قاتل کے بچوں کے ڈی این اے سے موقع واردات سے ملنے والا ڈی این اے کا ننانوے فیصد ملاپ ہوا تو یہ قتل کیس حل ہوگیا ۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے