متفرق خبریں

انڈیا میں ’روح افزا‘ کا بحران

مئی 8, 2019

انڈیا میں ’روح افزا‘ کا بحران

رمضان کے مہینے میں پاکستانیوں کا ’مشروب مشرق‘ ٹرینڈ بننے والا شربت روح افزا انڈیا میں سوشل میڈیا پر اس وقت بحرانی ٹرینڈ سے گزر رہا ہے ۔

بہت سے پاکستانیوں کے علم میں یہ بات انڈین سوشل میڈیا ٹرینڈ سے آئی کہ روح افزا اںڈیا کا بھی ’مشروب مشرق‘ ہے ۔

انڈیا میں ’دی پرنٹ‘ ویب سائٹ کے بانی شیکھر گپتا نے سب سے پہلے انڈین مسلمانوں کے لیے روح افزا کے بحران پر خبر کی اور ٹویٹ کیا کہ ’اب یہ واقعی سنگین بحران ہے ۔‘

انڈین اخبار اکنامک ٹائمز نے بھی حالیہ رمضان میں روح ا‌فزا کے کمی کے بحران پر رپورٹ دی ہے ۔

اپنی رپورٹ میں اخبار نے کہا ہے کہ گرمیوں میں 400 کروڑ کے اس برانڈ کی فروخت میں رمضان کے ماہ میں 25 فیصد کا اضافہ ہو جاتا ہے ۔

اخبار کا دعوی ہے کہ یہ مشروب گرمیوں میں عالمی مشروبات کی آدھی سیل کے برابر مارکیٹ میں جگہ پاتا ہے ۔

ٹوئٹر پر بعض انڈین صارفین اس مشروب کی کمی کو پاکستان کے ساتھ تجارت میں خراب تعلقات کی وجہ قرار دیتے ہیں مگر کئی صارفین کہہ رہے ہیں کہ انڈیا میں ہمدرد کی پاکستان کے مقابلے میں زیادہ مصنوعات فروخت ہوتی ہیں اور یہ مقامی طور پر تیار ہوتی ہیں ۔

انڈیا سے یشونت دیشمکھ نے صحافی شیکھر گپتا کے ٹویٹ پر ان کو جواب دیا کہ ’روح افزا کی عدم دستیابی صرف مسلمانوں کے لیے بحران نہیں بلکہ یہ پورے انڈیا کے لوگوں کا مرغوب مشروب ہے۔‘

ایک خاتون صارف نکولا ٹرنر نے یشونت دیشمکھ کو جواب دیا کہ ’یہ زہر ہے۔ سیال حالت میں یہ چینی ہے۔ اگر آپ چینی کی زیادہ مقدار کو زہر سمجھتے ہیں تو یہ وہی ہے ۔‘

یشونت نے اس جواب کو ریٹویٹ کر کے لکھا ہے کہ ’اگر یہ سیال زہر ہے تو پھر میں 40 برس قبل مر گیا ہوتا۔‘

’ان یتھ‘ نامی ایک ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ویڈیو پوسٹ کر کے پوچشھا گیا ہے کہ ’کیا آپ اس رمضان روح افزا کو یاد کریں گے۔‘

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے