متفرق خبریں

فیس بک خود ہی دہشت گردوں کی ویڈیو پھیلاتی ہے

مئی 10, 2019

فیس بک خود ہی دہشت گردوں کی ویڈیو پھیلاتی ہے

امریکہ میں ایک تحقیق کے دوران معلوم ہوا ہے کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک کا خود کار تکنیکی نظام ایسے افراد کی ویڈیوز بنا کر پھیلاتا ہے جو سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے دہشت گرد قرار دی گئی تنظمیوں سے ہمدردی رکھتے ہیں۔

واشنگٹن میں قائم نیشنل وسل بلوور سینٹر نے کہا ہے کہ فیس بک کی خود کار ٹیکنالوجی نادانستہ طور پر دہشت گردوں تنظیموں سے منسلک افراد کی ویڈیوز اور تصاویر یادداشتوں کی بنیاد پر بنا کر شیئرکرتی ہے ۔ 

جمعرات کو پیش کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک کا مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام انتہا پسندوں کی شناخت نہیں کر پا رہا ۔

نیشنل وسل بلوور سینٹر واشنگٹن نے امریکہ کی جانب سے دہشت گرد قرار دی گئی تنظیموں کے فیس بک پیجز کے تین ہزار ممبرز پر ایک تحقیق کی ہے جنہوں نے ان صفحات کو لائیک کر رکھا ہے ۔  

تحقیق کاروں نے ریسرچ میں معلوم کیا کہ شدت پسند گروپ داعش اور القاعدہ کھلے عام سوشل میڈیا نیٹ ورکس پر متحرک ہیں ۔

سینٹر کی رپورٹ کے مطابق پریشان کن بات یہ ہے کہ فیس بک کا اپنا سوفٹ ویئر خود کار نظام کے تحت انتہا پسندوں کے سوشل میڈیا صفحات کے لیے ماضی کی یادوں اور خوشی کی ویڈیوز تیار کرتا رہتا ہے۔ ان ویڈیوز کو اچھی خاصی تعداد میں لوگ دیکھتے اور لائیک کرتے ہیں۔

 نیشنل وسل بلوور سینٹر واشنگٹن نے کہا ہے کہ اس نے ایک فرد کی جانب سے امریکہ کے سکیورٹی اینڈ ایکسچیج کمیشن کو ایک شکایت درج کروائی ہے۔ شکایت کنندہ نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی ہے ۔

وسل بلوورسینٹر نے 48 صفحات پر مشتمل اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ فیس بک کی جانب سے دہشت گردی کے مواد کو روکنے کی کوششیں کمزور اور ناقابل یقین ہیں ۔ ’ہمارے لیے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ فیس بک خود کار ٹیکنالوجی سے دہشت گردی کے مواد کو پیدا کرنے کے ساتھ پھیلا بھی رہا ہے۔‘   

نیشنل وسل بلوور سینٹر واشنگٹن کی شکایت کے مطابق فیس بک انتہا پسندانہ اکائونٹس اور پوسٹس کو ختم کرنے کا وعدہ پورا نہیں کر رہا ۔

بک حکام انتظامیہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ دو سال پہلے کی نسبت اب نئی ٹیکنالوجی اور بھاری سرمایہ کاری کی بدولت زیادہ کامیابی سے دہشت گردی سے متعلق مواد کو ہٹا رہے ہیں ۔

فیس بک انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ’ہم یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ ہم نے سب کچھ حاصل کر لیا ہے تاہم دہشت گرد گروپوں کے خلاف اپنی کوششوں کے حوالے سے بہت متحرک ہیں ۔‘

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے