پی ٹی آئی کے ’پلر‘ کی مشہوری
عظمت گل / نمائندہ خصوصی پشاور
پاکستان میں تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم اورپارٹی سے ہمدردی رکھنے والے نوجوان فیس بک اور ٹوئٹر کے علاوہ یو ٹیوب پر بھی سرگرم رہتے ہیں اور بظاہر سب سے مؤثر ’پروپیگنڈا ٹول‘ سمجھے جاتے ہیں مگر پشاور کی میٹرو وہ منصوبہ ہے جس کا دفاع ان کے بس کی بات بھی نہیں رہی ۔
پشاور میٹرو بس منصوبے یا بی آر ٹی کے بارے میں خبریں آئے روز اخبارات کی زینت بنتی ہیں مگر اس منصوبے کی تصویریں فوری طور پر سوشل میڈیا پر وائرل ہو جاتی ہیں ۔
بی آر ٹی کی حالیہ تصویر ہوا میں معلق ٹریک کی ہے جس کے نیچے نیا ستون (پلر) کھڑا کیا جا رہا ہے اور اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ اس موڑ سے گزرنے والی دو بسوں کے چوڑائی کے مقابلے میں ٹریک کی چوڑائی کم رکھی گئی تھی جس کی وجہ سے ڈیزائن کو تبدیل کیا جا رہا ہے ۔
وائٹ سٹار کے کریڈٹ سے انگریزی روزنامے ڈان میں شائع ہونے والی اس تصویر نے سوشل میڈیا پر ایک بار پھرتحریک انصاف کے فالوورز کو پچھلے قدم پر دھکیل دیا ہے ۔
رب نواز بلوچ نامی صارف نے یہ تصویر ٹویٹ کر کے لکھا ہے کہ ’پشاور بی آر ٹی روٹ مکمل ہونے کے بعد پتہ چلا کہ 18 میٹر کی بسیں اس شارپ ٹرن (ویسٹ کینٹ پولیس اسٹیشن) سے نہیں گزر سکتی ۔ اب پلر کو چوڑا کیا جا رہا ہے ۔‘

پشاور ہشتنگری انڈر پاس ۔ تصویر عبدالمجید گورایہ ٹوئٹر
خیال رہے کہ اس سے قبل سڑک کے ساتھ گزرنے والے بی آر ٹی ٹریک اور سٹیشن میں سے گزرنے والے بسوں کی چوڑائی کا بھی غلط اندازہ لگا کر ڈیزائن کیا گیا تھا جسے تبدیل کیا گیا ۔
اسی طرح دو پلوں کو بھی توڑ کر نئے سرے ان کی چوڑائی درست کی گئی ۔
ایک ماہ قبل بی آر ٹی انڈر پاس میں سے گزرنے والی گیس پائپ لائن کی تصویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس کے بعد پی ٹی آئی کی ٹرولنگ نے ریکارڈ قائم کیے تھے ۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ بی آر ٹی کے ڈیزائن میں خامیوں اور ان کو درست کرنے کی کوششوں کی نشاندہی والی یہ تمام تصاویر پشاور کے منجھے ہوئے فوٹو گرافر عبدالجمید گورایہ بناتے ہیں مگر سوشل میڈیا پر زیادہ فالوورز نہ ہونے کی وجہ سے وہ ٹرولز کی گالیوں اور ’شائقین‘ کی تحسین سے ’محفوظ‘ رہتے ہیں ۔

اس بارے میں جب فوٹو گرافر عبدالمجید گورایہ سے پاکستان ٹوئنٹی فور نے پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ ٹوئٹر یا سوشل میڈیا کو زیادہ استعمال اور فالو نہیں کرتے اس لیے دوست بتاتے رہتے ہیں کہ ان کی فلاں تصویر بہت زیادہ وائرل ہو گئی ہے ۔
عبدالمجید گورایہ سے پوچھا گیا کہ اگر ان کے ٹوئٹر پر لاکھ کے لگ بھگ فالوورز ہوتے تو ان کو ٹرولز کی جانب سے کتنی گالیاں پڑتیں؟ تو انہوں نے ہنستے ہوئے جواب دیا کہ ’کم از کم 50 ہزار گالیاں تو پڑ ہی جاتیں۔‘

