متفرق خبریں

اسلام آباد: نایاب کچھوے کتنے میں بکے؟

مئی 13, 2019

اسلام آباد: نایاب کچھوے کتنے میں بکے؟

اسلام آباد میں وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کی ٹیم نے شہر کے ایف سیون سیکٹر کے مرکز جناح سپر میں وائلڈ لائف ٹریڈرز کے خلاف کارروائی کر کے تین نایاب نسل کے کچھوے تحویل میں لیے ہیں۔

وائلڈ لائف انتظامیہ کے ایک بیان کے مطابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر فہیم چنگوانی، چوہدری سلیمان قمر اور ظہیر خان کی قیادت میں ٹیم نے برڈز شاپ پر چھاپہ مار کر نایاب نسل کے قیمتی کچھوے قبضے میں لیے۔

خیال رہے کہ اس نایاب کچھوے کی نسل کو عالمی ادارے نے اپنی ریڈ لسٹ میں رکھا ہوا ہے کیونکہ یہ نسل غیرقانونی تجارت کی وجہ سے ناپائید ہونے کے قریب ہے ۔

حکام کے مطابق یہ تین کچھوے 12 ہزار میں فروخت کیے جا رہے تھے۔

وائلڈ لائف ٹیم کا کہنا تھا کہ ایک وقت تھا جب اسلام آباد شہر وائلڈ لائف کی غیر قانونی تجارت کے لیے جنت تصور کیا جاتا تھا ۔ جنگلی پرندوں اور جانوروں کو بغیر کسی خوف کے خریدا اور بیچا جاتا تھا اور اس کو منافع بخش اور آسان ذریعہ معاش سمجھا جانے لگا تھا۔

حکام کے مطابق جنگلی حیات کی غیر قانونی تجارت کے دھندے میں بااثر افراد بھی شامل تھے جنہوں نے تو فخریہ اس کام کے ساتھ اپنی وابستگی کو پیش کیا تاہم ٹریڈرز کے خلاف مسلسل چھاپوں کی وجہ سے اس کاروبار میں کافی کمی آئی ہے ۔

خیال رہے کہ پاکستان کا وائلڈ کائف قانون اس وقت بھی زیادہ مؤثر نہیں ۔

پاکستان میں موجود ڈولفن، ریچھ اور انڈین پنگولین کی نسل کو شدید خطرات لاحق ہیں جو ناپائید ہونے کے قریب ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے