مفت حج پر 32 کروڑ لگا دیے
پاکستان میں وفاقی وزارت برائے مذہبی امور نے اپنے ملازمین اور دیگر افراد کو مفت حج کرانے پر پانچ سال میں 32 کروڑ روپے سے زائد کے اخراجات کیے ہیں ۔
پارلیمنٹ کے ایوان بالا سینٹ کو تحریری طور پر بتایا گیا ہے کہ ہر سال سرکاری سیکم کے تحت عازمین حج کی خدمت کے لیے وزارت مذہبی امور کے سینکڑوں ملازمین مفت حج کرنے جاتے ہیں جن پر کروڑوں روپے خرچ کئے جاتے ہیں ۔
ان سرکاری ملازمین مفت رہائش، ائر ٹکٹ اور کھانے کے علاوہ ریالوں میں الاﺅنس بھی ملتا ہے ۔
سرکاری سکیم کے تحت مفت حج پر جانے والوں میں وزارت کے سیکرٹری سے نائب قاصد تک سب شامل ہوتے ہیں ۔ وزارت مذہبی امور کے اہلکاروں کے یہ اخراجات حجاج ویلفیئر فنڈز سے کیے جاتے ہیں ۔
وزارت مذہبی امور اپنے اہلکاروں کے علاوہ سکاﺅٹس اور پرائیویٹ خدام الحجاج بھی اپنے ساتھ لے کر جاتی ہے جن میں کئی بار صحافی بھی شامل ہوتے ہیں ۔
سینٹ کو بتایا گیا ہے کہ جدہ، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں الگ سے حکومت پاکستان عازمین حج کی خدمت کے لیے لوگوں کو بھرتی کرتی ہے۔
سینکڑوں کی تعداد میں خادم بھرتی کرنے باوجود وزارت کے سیکرٹری سے نائب قاصد اور ڈرائیور تک ہر سال مفت حج کرنے اور الاﺅنس لینے کی دوڑ میں شامل ہوجاتے ہیں ۔

دستاویزات کے مطابق عازمین حج کی خدمت کےلئے جانے والے اہلکار گریڈ کے حساب سے بھاری الاﺅنس الگ لیتے رہے ہیں۔ گذشتہ پانچ سال میں مفت سرکاری حج پر 32 کروڑ59 لاکھ 22 ہزار آٹھ سو دو روپے خرچ ہوئے۔
وزارت مذہبی امور کے سال دو ہزار اٹھارہ میں 326 افسروں اور اہلکاروں نے مفت حج کیا۔ دو ہزار سترہ میں وزارت مذہبی امور کے324 افسروں اور اہلکاروں نے مفت حج کیا۔
دو ہزار سولہ میں269 افسروں اور اہلکاروں نے مفت حج کیا۔
دوہزار پندرہ میں248 افسروں اور اہلکاروں نے حج فنڈ سے مفت حج کیا۔ دو ہزار چودہ میں192 افسروں اور اہلکاروں نے حج فنڈ سے مفت حج کیا۔
وزارت میں موجود ایک اعلی اہلکار نے تسلیم کیا کہ وزیر مذہبی امور اپنی صوابدید پر حج کے لیے نام دے سکتے ہیں ۔ ہر وزیر ایسا کرتا ہے اور سردار یوسف کے دور میں ان کے گاؤں کے افراد اور ڈرائیور نے تین حج کیے ۔

