سوات میں پولیس سٹیشن کے باہر خودکش دھماکے سے 5 اہلکاروں سمیت 14 اموات
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں پولیس سٹیشن کے باہر ہونے والے خودکش دھماکے میں پانچ پولیس اہلکاروں سمیت 14 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
اتوار کی شام جس وقت دھماکہ کیا گیا سوات میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات کے خلاف مقامی شہریوں کی ایک بڑی تعداد احتجاج کر رہی تھی۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے خودکش دھماکے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بہادر پولیس جوانوں نے جان دے کر خودکش بمبار کو تھانے کے اندر جانے سے روکا۔
پاکستان کے صدر آصف زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کبل خودکش دھماکے اور اس میں ہونے والی اموات پر افسوس کا اظہار کیا۔
وزیرِ اعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔‘
ڈپٹی کمشنر عائشہ ناصر نے میڈیا کو بتایا کہ دھماکہ شام تقریباً چھ بجے ہوا ایک خودکش بمبار کو کبل کے علاقے میں مرکزی پولیس ہیڈ کوارٹر میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کے دوران کیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ پولیس نے حملہ آور کو روکنے کی کوشش کی تو اس نے اپنے جسم سے بندھے دھماکہ خیز مواد کو اُڑا دیا جس سے پولیس اہلکاروں سمیت متعدد شہری مارے گئے۔
محکمہ ریسکیو 1122کے ترجمان بلال فیضی نے بتایا کہ 9 افراد کی لاشیں سینٹرل ہسپتال سیدو شریف جبکہ پانچ لاشیں کبل ہسپتال میں لائی گئیں۔
