پاکستان24 متفرق خبریں

جسٹس فائز کیس میں مزید سوالات

فروری 17, 2020

جسٹس فائز کیس میں مزید سوالات

پاکستان کی سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس کیخلاف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست پر سماعت جسٹس منیب اختر کی عدم موجودگی کے باعث کل تک ملتوی کردی۔

درخواست گذار ایڈووکیٹ حسن عرفان نے فوجی آمر پرویز مشرف کے دور میں بنائے گئے سپریم جوڈیشل کونسل رولز کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھا دیا۔

جہانزیب عباسی

سپریم کورٹ میں جسٹس عمر عطابندیال کی سربراہی میں نو رکنی لارجر بنچ نے سماعت کا آغاز کیا تو وزیر قانون فروغ نسیم اور چیئرمین ایسٹ ریکوری یونٹ شہزاد اکبر کمرہ عدالت میں موجود تھے۔

بنچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا بنچ کے رکن جج جسٹس منیب اختر خرابی صحت کے باعث موجود نہیں ہیں،اس لیے سماعت ملتوی کر رہے ہیں، درخواست گزار اور اٹارنی جنرل کی قانونی ٹیم کمرہ عدالت میں موجود ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل کیپٹن ریٹائرڈ انور سے پوچھا کیا آپ نے درخواست گزار کی طرف سے دائر کردہ تحریری معروضات دیکھے ہیں۔اٹارنی جنرل نے جواب دیا میں نہیں دیکھ سکا۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ تحریری معروضات میں ہر نقطے پر بات کی گئی ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل ایڈووکیٹ منیر اے ملک نے پوچھا کہ اٹارنی جنرل صاحب کس کی طرف سے پیش ہوں گے۔

اٹارنی جنرل نے جواب دیا میں اپنی طر ف سے اور وفاق کی طرف سے پیش ہوکر دلائل دوں گا۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا وزیر قانون فروغ نسیم صاحب بھی کمرہ عدالت میں بیٹھے ہیں۔ وزیر قانون فروغ نسیم اپنی نشست پر کھڑے ہوئے تو اٹارنی جنرل نے کہا کہ فروغ نسیم پر بھی الزام لگایا گیا ہے، فروغ نسیم زاتی حیثیت سے پیش ہوکر دلائل دیں۔

سماعت کے دوران درخواست گذار ایڈووکیٹ حسن عرفان خان نے کہا کہ میں تحریری معروضات عدالت میں جمع کرواؤں گا، سپریم جوڈیشل کونسل کے رولز ایل ایف او کے زریعے بنائے گئے تھے،اٹھارویں ترمیم میں ایل ایف او کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا تھا، اٹھارویں ترمیم کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل کے رولز دوبارہ نہیں بنائے گئے۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہم اس وقت اس تنازعے میں نہیں پڑیں گے، ہمارا فوکس مرکزی مقدمے پر ہے۔

سماعت کے اختتام پر ایڈووکیٹ حسن عرفان خان نے راقم کو مزید تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے رولز ایل ایف او کے زریعے دو ہزار پانچ میں بنائے گئے تھے، اٹھارویں ترمیم میں صرف بارہ اکتوبر انیس سو ننانویں سے لیکر اکتیس دسمبر دو ہزار تین تک کے رولز کو محفوظ رکھا گیا، اٹھارویں ترمیم کے بعد کونسل کے رولز کی کوئی قانونی حیثیت نہیں،اٹھارویں ترمیم کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل کے رولز دوبارہ نہیں بنائے گئے۔سپریم کورٹ کا دس رکنی بنچ کل دن ساڑھے گیارہ بجے دوبارہ سماعت کرے گا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے