معاشی دباؤ کے بجائے جنگ سے ایران کو روکنے والے صدر ٹرمپ دوبارہ پابندیوں کی طرف
صدر ڈونلڈ ٹرمپ اکثر یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ایران کے خلاف اپنی فوجی مہم کا آغاز اس وجہ سے کیا جب 50 سالہ معاشی دباؤ اس کے جوہری ہتھیاروں کے عزائم کو روکنے میں ناکام رہا تھا؛ تاہم اب وہ اس بات پر جوے کی ایک اور بازی کھیل رہے ہیں کہ معاشی دباؤ کا ایک اور مرحلہ اس کشیدگی یا ‘جنگ’ کو ختم کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کو امید ہے کہ مہینوں کی بمباری نے ایران کی معیشت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے، جس سے وہاں کی قیادت اپنے جوہری پروگرام کو ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو تیل اور قدرتی گیس کے ٹینکروں کی آمدورفت کے لیے مکمل طور پر کھولنے کے مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔
صدر نے پیر کے روز کہا کہ چونکہ ایران کسی بھی امن مذاکرات کے حصے کے طور پر ہرجانے یا تلافی کا مطالبہ کر رہا ہے، اس لیے اب وہ بھی امریکہ کی طرف سے بھی اسی طرح کے مطالبے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
یہ صدر ٹرمپ کی جانب سے اختیار کیے گئے اس وسیع تر مؤقف کا حصہ ہے جس کے تحت وہ یہ دلیل دے رہے ہیں کہ ایران اب معاشی انہدام کے دہانے پر کھڑا ہے؛ حالانکہ ایران پہلے ہی کئی دہائیوں سے معاشی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے—ایسی پابندیاں جو اکثر جنگ کو فوری طور پر روکنے والے ہتھیار یا مددگار چیز کے بجائے ایک طویل مدتی حکمت عملی کا درجہ رکھتی ہیں۔
امریکی صدر کے مؤقف میں یہ تبدیلی ایسے وقت آئی ہے جب اہم ہتھیاروں کے امریکی ذخائر کم ہو چکے ہیں اور وقفے وقفے سے ہونے والے مذاکرات ایک بار پھر تعطل کا شکار نظر آتے ہیں۔ تاہم صدر ٹرمپ کا اصرار ہے کہ اس دباؤ کے نتیجے میں کوئی پیش رفت ہو سکتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "ہاں، وہ مسائل کھڑے کر سکتے ہیں، لیکن وہ مالی طور پر کنگال ہو چکے ہیں۔ ان کے پاس پیسہ نہیں ہے۔ آپ جانتے ہیں، ایران کنگال ہو چکا ہے، مکمل طور پر کنگال۔ اور وہ اپنے فوجیوں کو تنخواہیں بھی ادا نہیں کر پا رہے۔ وہاں مہنگائی کی شرح 300 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔”
مشرق وسطٰی کی کشیدہ صورتحال اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی رکنے کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور پیر کو مارکیٹ کھلنے کے بعد سے یہ مسلسل اوپر جا رہی ہیں-

