اہم

ایرانی حملے کا خوف، صدر ٹرمپ ایئرفورس ون سے کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے دوسرے جہاز میں‌ منتقل

اگست 11, 2026

ایرانی حملے کا خوف، صدر ٹرمپ ایئرفورس ون سے کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے دوسرے جہاز میں‌ منتقل

واشنگٹن پوسٹ میں پیر کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ ماہ ترکی کے شہر انقرہ میں ہونے والے نیٹو (NATO) سربراہی اجلاس سے خفیہ طور پر ایک متبادل فوجی طیارے میں روانہ ہوئے، جبکہ وائٹ ہاؤس نے ایسا تاثر دیا کہ ریپبلکن صدر ‘ایئر فورس ون’ (Air Force One) میں سفر کر رہے ہیں۔

اخبار کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ٹرمپ کے خلاف ایران کی جانب سے قتل کی دھمکی کے پیشِ نظر کیا گیا تھا۔
یہ حکمتِ عملی اس طرح اپنائی گئی کہ صحافیوں اور وائٹ ہاؤس کے کچھ عملے کو یہ یقین دلایا گیا کہ وہ صدر کے ساتھ ہی اسی طیارے میں سوار ہیں، جب کہ صدر نیٹو ممالک کے رہنماؤں کے سالانہ اجلاس سے واپس واشنگٹن کا سفر شروع کر رہے تھے۔

اخبار نے اس سلسلے میں اپنے جائزے میں آنے والے مواد، آپریشن سے واقف ایک امریکی عہدیدار اور صدر کے سفر کی معلومات رکھنے والے ایک اور شخص کا حوالہ دیا۔

خبر ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس (AP) نے اس واشنگٹن پوسٹ کی خبر کو شائع کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس رپورٹ کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکی۔

صدر ٹرمپ اس سربراہی اجلاس کے لیے قطر کے تحفے میں دیے گئے اور خصوصی طور پر تیار کردہ (ریٹروفٹڈ) سرخ، سفید اور گہرے نیلے رنگ کے جیٹ طیارے میں گئے تھے۔ لیکن ترکی سے روانگی سے قبل انہوں نے کہا کہ وہ واپسی کے سفر کا کچھ حصہ ‘ایئر فورس ون’ کے پرانے ماڈل والے ہلکے نیلے رنگ کے طیارے میں طے کریں گے۔

اُس وقت صدر نے کہا تھا کہ نیا لگژری جیٹ ان کے انقرہ سے روانہ ہونے سے قبل ہی بھیجا جا رہا ہے تاکہ مشرقی انگلینڈ میں تعینات امریکی فوجیوں کو نئے ‘ایئر فورس ون’ کا جائزہ لینے کا موقع مل سکے۔

انقرہ میں برطانیہ میں واقع رائل ایئر فورس کے اڈے ‘ملڈن ہال’ کے لیے پرواز بھرنے سے قبل صدر ٹرمپ ٹیلی ویژن کیمروں کے سامنے پرانے ‘ایئر فورس ون’ جمبو جیٹ میں سوار ہوئے۔

تاہم واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق پرانے ایئر فورس ون جیٹ میں سوار ہونے کے چند منٹ بعد صدر ٹرمپ کو خفیہ طور پر ایک چھوٹے طیارے ایئر فورس C-32A – میں ایئرپورٹ کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے پہنچا دیا گیا جو عام طور پر کھانے اور دیگر سامان لوڈ کرنے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ اور صدر ٹرمپ اس چھوٹے طیارے پر ملڈن ہال گئے۔

وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کو تیسرے طیارے پر ملک سے باہر نکالنے کے لیے خفیہ آپریشن کی واشنگٹن پوسٹ رپورٹ کے بارے میں سوالات کا براہ راست جواب نہیں دیا، یا یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ وہ ملڈن ہال کے لیے اڑنے والے بیبی بلیو ایئر فورس ون جیٹ پر موجود تھے۔

وائٹ ہاؤس کے کمیونیکیشن ڈائریکٹر سٹیون چیونگ نے ایک بیان میں کہا کہ جیسا کہ صدر نے حال ہی میں کہا ہے کہ امریکہ کے بہت سے دشمن ہیں جن کی نظریں ان پر ہیں اور ہم ان خطرات سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن ہتھیار استعمال کرتے ہیں۔

امریکی خفیہ سروس نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ فضائیہ، جو ایگزیکٹو ٹریول ہوائی جہاز کے بیڑے کی دیکھ بھال کرتی ہے، نے واشنگٹن پوسٹ کے جانب سے بھیجے گئے سوالات وائٹ ہاؤس کو بھیج دیے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے