وزیراعظم نے اٹارنی جنرل سے استعفا لیا: ترجمان
پاکستان میں حکومت کی ترجمان فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ عدالت میں ججوں سے متعلق اٹارنی جنرل انور منصور کا بیان ذاتی تھا اور حکومت کا موقف نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا موقف عدالت میں جمع کروایا اور اٹارنی جنرل کے بیان سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔
جمعرات کی شب اسلام آباد میں ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ عدالت میں جو بیان انور منصور نے دیا اس پر انہیں وزیراعظم کی ہدایت پر استعفی دینے کا کہا گیا۔
”کوئی بھی عدالت سے بالاتر ہے۔ نئے اٹارنی جنرل پر ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔“
اس سے قبل جمعرات کو اٹارنی جنرل انور منصور خان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیتے ہوئے مختلف وجہ بیان کی تھی۔
اٹارنی جنرل نے اپنا استعفی صدر پاکستان کو بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے اسے وکیلوں کے مطالبے پر عمل قرار دیا تھا۔
اٹارنی جنرل کے مطابق استعفیٰ پاکستان بارکونسل کے مطالبے پر دیا جبکہ حکومتی ذرائع کے مطابق ان سے استعفا لیا گیا ہے۔
انور منصور نے استعفے میں لکھا تھا کہ ”افسوس ہے جس بار کونسل کا سربراہ ہوں اسی نے استعفیٰ مانگا، جب اپنی برادری کے لوگ استعفیٰ مانگیں تو دینا پڑتا ہے۔“
واضح رہے کہ اٹارنی جنرل نے دو دن قبل سپریم کورٹ کے ججوں پر ناقابل اشاعت الزام عائد کیا تھا۔
انور منصور خان فوج سے کپتان کے عہدے پر ریٹائر ہوئے تھے۔

