کرتارپور کی سکیورٹی کے لیے رینجرز کو 30 ارب
پاکستان کے بجٹ سال 2020 کی دستاویز کے مطابق گزشتہ برس مختلف وزارتوں اور محکموں نے مختص بجٹ سے 544 ارب روپے کے اضافی اخراجات کیے جن میں کرتار پور راہداری کی سکیورٹی کی مد میں رینجرز کو اضافی 30 ارب روپے ادا کیے گئے۔ 100 ارب روپے پاکستان ریلوے کو خسارہ پورا کرنے کے لیے سبسڈی کی مد میں حکومت کی جانب سے ادا کیے گئے۔
گزشتہ سال کیے گئے اضافی اخراجات حکومت نے اگلے مالی سال کے بجٹ کے ساتھ ہی پارلیمنٹ کی منظوری کے لیے پیش کیے ہیں جن کی پارلیمنٹ سے منظوری لینا آئین کے آرٹیکل 84 کے تحت لازم ہے۔
بجٹ دستاویزمیں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران وزیراعظم کے مرغیوں کے منصوبے کے لیے 34 لاکھ 46 ہزار روپے کے اضافی اخراجات ادا کیے جبکہ وزیراعظم کے کٹوں کے بچاؤ کے مںصوبے کے لیے 48 لاکھ 78 ہزار روپے وفاقی بجٹ سے اضافی اخراجات کی مد میں ادا کیے گئے۔
وفاقی حکومت نے سال 2019 میں قومی زرعی ایمرجنسی پروگرام کی منظوری دیتے ہوئے ملک بھر میں مختلف منصوبوں کے لیے 309 ارب روپے مختص کیے تھے، جن میں سے 84 ارب روپے وفاق اور 225 ارب روپے چاروں صوبائی حکومتوں کے ذمے تھے۔
اس پروگرام کے تحت دیہات میں روزگار کے لیے عام لوگوں کو مفت مرغیوں کی فراہمی اور کٹوں کی افزائش کرنے پر نقد امدا دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔ پروگرام کا ہدف آنے والے برسوں میں چار سے سات لاکھ کٹے پالنے اور پچاس لاکھ مرغی کے چوزے سبسڈی پر تقسیم کیے جانے کا ہے۔
مختلف وزارتوں اور محکموں کی طرف سے 544 ارب روپے کے اضافی اخراجات میں سے زیادہ تر کورونا کی صورتحال، دفاعی اخراجات اور دیگر شعبوں میں استعمال ہوئے۔
عالمی ثالثی فورم پر ریکوڈک کیس میں قانونی فیس کی مد میں بھی 4 کروڑ کی ادائیگی کی گئی جبکہ سٹیل مل کو قرض کی مد میں بھی حکومت نے گزشتہ مالی سال کے دوران ایک ارب تیس کروڑ کی ادائیگی کی۔

