پاکستان پاکستان24

’احتساب کے نام پر جو ہو رہا ہے پتہ ہے‘

جون 18, 2020

’احتساب کے نام پر جو ہو رہا ہے پتہ ہے‘

پاکستان کی سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ کو ویڈیو لنک پر بیان ریکارڈ کرنے کی اجازت دے دی ہے جبکہ حکومتی وکیل فروغ نسیم نے ایک سوال کے جواب میں عدالت کو بتایا ہے کہ غیرقانونی طریقے سے اکھٹے کیے گئے شواہد کا بھی جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ: جہانزیب عباسی

جمعرات کو سماعت کے آغاز پر بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز کے گھر پر ان کی اہلیہ کا ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کرنے کے انتظامات کر رہے ہجں۔

انہوں نے کہا کہ جسٹس قاضی کی اہلیہ مقدمے میں فریق نہیں مگر متاثرہ ضرور ہیں، وہ سب کے لیے قابل احترام ہیں، امید ہے کہ بیان ریکارڈ کراتے ہوئے مناسب الفاظ کا استعمال کریں گی۔ اور مختصر بات کرتے ہوئے جائیداد کی خریداری اور ذرائع آمدن کا بتائیں گی۔

حکومتی وکیل فروغ نسیم نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جوڈیشل کونسل فوجداری اور دیوانی حقوق کا فیصلہ نہیں کرتی، جوڈیشل کونسل فیکٹ فائنڈنگ فورم ہے جو اپنی سفارشات دیتا ہے، بدنیتی پر فائینڈنگ دینے پر کونسل کے سامنے کوئی چیز مانع نہیں۔

فروغ نسیم نے مزید کہا کہ جوڈیشل کونسل بدنیتی کے ساتھ نیک نیتی کا بھی جائزہ لے سکتی ہے، جوڈیشل کونسل کے سامنے تمام فریقین ایک جیسے ہوتے ہیں.

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ عدلیہ پر چیک موجود ہے، کسی جگہ بدنیتی ہو تو عدالت جائزہ لینے کے لیے بااحتیار ہے، عدالت اپنے اختیارات پر سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا عدالت اور کونسل کی بدنیتی کے تعین کے نتائج ایک جیسے ہوں گے۔ فروغ نسیم نے کہا کہ کونسل بدنیتی پر ابزرویشن دے سکتی ہے۔

جسٹس مقبول باقر نے پوچھا کہ کیا کونسل صدر مملکت کے کنڈکٹ کا جائزہ لے سکتی ہے؟ جسٹس سجاد علی شاہ نے سوال کیا کہ کیا عدالت عظمی کے سامنے بدنیتی کا جائزہ لینے میں کوئی رکاوٹ ہے؟

سماعت کے دوران حکومت کے وکیل فروغ نسیم اپنے دلائل میں بلواسطہ طور پر یہ کہہ رہے ہیں کہ غیر قانونی طریقے سے اکھٹے کیے گئے شواہد کا عدالت جائزہ لے سکتی ہے.

واضح رہے جسٹس قاضی فائز عیسی نے حکومت پر غیر قانونی طریقے سے شواہد اکھٹے کرنے اور اہل خانہ کی جاسوسی کا الزام عائد کر رکھا ہے.
حکومت کے وکیل فروغ نسیم نے دلائل میں کہا کہ جج کیخلاف انضماطی کارروائی کے طریقے کار میں ہر مقدمے کی اپنی نوعیت ہوتی ہے. جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر یہ طے شدہ ہے کہ شواہد واضح ہونے چاہیں.

فروغ نسیم نے کہا کہ تسلیم شدہ حقائق ہوں تو پھر نوعیت الگ ہوتی ہے. جسٹس عمر عطا بندیال نے جب یہ پوچھا کہ کیا کسی کی الماری سے دستاویزات چوری کرکے اس کے خلاف استعمال ہوسکتے ہیں. حکومتی وکیل نے جواب دیا کہ بالکل استعمال ہو سکتے ہیں، تاہم گن پوائنٹ یا مار پیٹ کر کے دستاویزات یا ثبوت حاصل کرنا درست نہیں ہے.

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ایک عدالتی فیصلے میں قرار دیا گیا کہ شواہد کے حصول کیلئے عمل شفاف ہونا چاہیے۔

فروغ نسیم بولے ایک عدالتی فیصلے میں یہ بھی قرار دیا گیا غیر قانونی طریقے سے استعمال کیے گئے دستاویزات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

حکومت کے وکیل نے دلائل میں کہا کہ برطانیہ میں عدالت نے ایک فیصلے میں قرار دیا جاسوسی کے زریعے شواہد اکھٹے کرنا درست ہے،برطانیہ میں ایک اور واقعے میں ایک کھوجی کے زریعے ایک شخص کی جاسوسی کی گئی،جاسوسی کیلئے آلات بھی استعمال کیے گئے،برطانوی عدالت نے قرار دیا جاسوسی کے زریعے اکھٹے کیے گئے مواد کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا.

جسٹس منصور علی شاہ نے حکومت کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آئین پاکستان میں جمہوریت بھی ہے، شہری آزادی بھی ہے،آئین پاکستان میں نجی زندگی کو تحفظ بھی حاصل ہے.

جسٹس منصور علی شاہ نے مزید کہا کہ میرے ملک میں انکوائری اور تحقیقات کیلئے ایف بی آر، ایف آئی اے، ایس ای سی پی جیسے ادارے موجود ہیں،پاکستان کے تفتیشی اداروں کے پاس جائیداد اور ٹیکس سے متعلق معاملات کی تلاش کیلئے طریقہ کار موجود ہے،آپ کہہ رہے ہیں ریاست کے اندر ایک ریاست ہے جو پیچھا کر سکتی ہے، شواہد اکھٹے کر سکتی ہے،ہماری تشویش شواہد اکھٹے کرنے کے طریقہ کار سے متعلق ہے،ایف بی آر جیسے دیگر ادارے موجود ہیں وہ پوچھیں ہمیں قابل قبول ہے،لیکن جو بات آپ کر رہے ہیں یہ بڑی عجیب بات ہے،پاکستان کوئی فاشسٹ ریاست نہیں ہے.

فروغ نسیم نے کہا میں نے یہ نہیں کہا پاکستان فاشسسٹ اسٹیٹ ہے نہ ہی یہ کہا یہاں قانون کی حکمرانی نہیں ہے،دو سو سال پہلے جائدادیں خفیہ ہوتی تھیں لیکن اب یہ عوام کی رسائی میں ہیں.

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ جب ایف بی جیسے دیگر اداروں کے سسٹم میں کسی کو معلوم نہیں جائیدادیں کس کی ہیں،غیر ملکی جائیدادوں کی کھوج کیلئے کس نے سونگھ کر بتایا،کس نے کہا آؤ ڈھونڈیں،کیسے پتہ چلا؟ کس نے جائیدادیں تلاش کیں.

فروغ نسیم نے جواب دیا آؤ ڈھونڈیں کا سوال ہی نہیں ہے،یہ سوال ہی نہیں ہے کہ پراپرٹیز پبلک ریکارڈ میں نہیں تھیں کیسے ڈھونڈی گئیں،ایک صحافی بدصورت تھا، اچھا یا برا لیکن اس نے نشاندہی کی.

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا ایک صحافی اس وقت زریعہ چھپا سکتا ہے جب خبر لگائے یا کالم لکھے، اثاثہ جات ریکوری یونٹ نے صحافی سے زریعہ کیوں نہیں پوچھا،ہم یہ نہیں کہہ رہے جج قابل احتساب نہیں ہے،ہماری تشویش اس طریقہ کار پر ہے جس کے زریعے جائیدادوں کی کھوج لگائی گئی، بطور جج میری نجی زندگی ہے، میری پرائیویسی ہے، آئینی حقوق حاصل ہیں،ڈوگر کی شکایت پر صدر سے انکوائری کی منظوری دینے کے بجائے اسٹیٹ باڈی سے پوچھا گیا.

فروغ نسیم نے کہا کہ ایک خاتون نومی کیمبل نے ٹی وی میں بیان دیا وہ منشیات نہیں لیتی،ایک صحافی نے میڈیکل رپورٹس حاصل کرکے خبر دیدی، خاتون منشیات کی عادی ہے،مقدمہ دائر ہوا، عدالت نے قرار دیا میڈیکل رپورٹس نجی معلومات ہے،جائیدادوں کا معاملہ مختلف ہے،ہم نے ایک متفرق درخواست میں لینڈ رجسٹری کا دستاویز لگایا ہے.

جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ افتخار محمد چوہدری کیس میں عدالت نے قرار دیا انکوائری کیلئے صدر کی منظوری ضروری ہے،یہ نہیں کہا گیا پرائیویٹ جاسوس سے خدمات حاصل کی جائیں،جسٹس قاضی فائز عیسی کے وکیل نے متعدد بار کہا ہمیں دستاویزات دکھائیں،اب آخر میں آکر دستاویزات دیے گئے، وہ بھی صرف ایک پراپرٹی کا ہے،ہمارے پاس متعدد سوالات ہیں لیکن پوچھنے سے اجتناب کر رہا ہوں۔

جسٹس منصور شاہ نے کہا کہ میں گلف کھیلنے جاتا ہوں، کیا میری جاسوسی ہوسکتی ہے، کیا میری تصاویر لی جاسکتی ہے، یہ تو ایسے ہی ہے جیسے جمہوریت سے فاسٹ ازم کی طرف جایا جائے۔

جسٹس عمر عطا نے کہا کہ انجینرنگ کے الزامات لگتے ہیں، مجھے افسوس ہے کہ اس میں ہمارے ادارے کو استعمال کیا گیا ہے، جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ ہو سکتا کہ اس مقدمے میں اس بات کی تصحیح کریں، ملک میں احتساب کے نام پر تباہی ہو رہی ہے، احتساب کے نام پر جو تباہی ہو رہی ہے اس پر بھی لکھیں گے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ وزیراعظم کے پاس نئی وزارت بنانے کا اختیار ہے، وزیراعظم کے پاس نئی ایجنسی بنانے کا اختیار کدھر ہے۔

وکیل نے کہا کہ وزیر اعظم کو کوئی بھی چیز کابینہ کو بھیجنے کا اختیار ہے۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے پوچھا کہ اے آر یو وفاقی حکومت کیسے ہو گئی۔ اے آر یو نے ایف بی آر سے ٹیکس سے متعلق سوال کیسے کیا؟

جسٹس منصور شاہ نے کہا کہ اے آر یو کسی شہری کو قانون کے بغیر کیسے ٹچ کر سکتا ہے؟ جسٹس مقبول باقرنے کہا کہ وزیراعظم کے اختیارات کسی قانون کے مطابق ہوں گے۔

وکیل نے کہا کہ عوامی معلومات پر پرائیویسی ایکٹ کا اطلاق نہیں ہوتا۔ جسٹس باقر نے کہا کہ آپ یہ بتا دیں کہ آپ نے بیرون کی اس ایجنسی کی خدمات کیسے حاصل کیں جس نے قاضی فائز عیسیٰ کے اہل خانہ کی جاسوسی کی۔

وکیل نے کہا کہ جائیدادوں کی معلومات حاصل کرنا پرائیویسی کے زمرے میں نہیں آتا، لندن کے قانون کے مطابق جائیدادیں اوپن سورس ہیں اور کوئی بھی ان کی معلومات لے سکتا یے، لیکن ہم یہاں کیسے کہہ سکتے ہیں جائیداد کی معلومات خفیہ ہیں؟ صرف ذاتی معلومات پرائیویسی میں آتی ہیں جائیدادیں نہیں۔

جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ پراپرٹی کی رجسٹریشن پوری دنیا کے لیے اوپن ہے لیکن جج صاحب کے اہل خانہ کی جائیدادوں معلومات کےلئے جاسوسی کیسے کی گئی؟

وکیل فروغ نسیم نے کہا کہ پبلک ڈومین میں آنے والی کسی چیز کی پرائیویسی نہیں، مولا علی نے مالک اشتر کو لکھے خط میں قاضیوں کی جاسوسی کے لیے مربوط نظام کا کہا، اسلامی ریاستوں میں کسی کی بیوی کے پاس بھی کچھ ہوتا تھا تو ان سے پوچھ گوچھ ہوتی تھی، مالی معاملات پر متعدد قاضیوں اور گورنروں کو معزول کیا گیا، اگر کسی چیز کی وضاحت کرتا تو پہلے شریعت دیکھ لینی چاہیے، حضرت عمر فاروق خلیفہ تھے تو ان سے کرتے پر بھی سوالات ہوئے، حضرت علی اور حضرت عمر سے بڑا کوئی نہیں ہو سکتا، اب آپشن دیا گیا کہ ایف بی آر چلے جائیں لیکن انکار کر دیا گیا۔

فروغ نسیم نے کہا کہ سپریم کورٹ یا سپریم جوڈیشل کونسل میں بھی ابھی تک منی ٹریل نہیں دی گئی۔ بینچ کے سربراہ نے کہا کہ جج صاحب کا احتساب ہونا چاہیے لیکن آپ نے ایڈا کچھ نہیں کیا، قرآن میں کہا گیا ہے کہ الزام تراشی موت سے بھی بدتر ہے، جج کے خلاف معلومات لے کر اسے ہراساں کرنے کی کوشش کی گئی، عوامی عہدوں پر تعینات کتنے افراد کے خلاف بھی ضابطے کی کاروائی کی گئی، جسٹس عمر عطا بندیالطنے کہا کہ ضلعی سطح سے لے کر ہر جگہ ایسی مثالیں موجود ہیں لیکن کسی کا کوئی احتساب نہیں کیا گیا۔

جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ جج کا احتساب کرنے کے لیے وحید ڈوگر کو استعمال کیا گیا، میں اپنی معلومات اداروں سے نہیں سکتا تو وحید ڈوگر کو خفیہ معلومات کیسے مل گئیں؟ احتساب کے نام پر اس ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب کو معلوم ہے، جسٹس یحیا آفریدی نے کہا کہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ حکومت نے کیسے ایک درخواست پر یہ سب کر دیا۔

وکیل نے کہا کہ درخواست گزار کے مطابق فیض آباد دھرنا کیس فیصلے سے حکومت، ایم کیو ایم اور کچھ حقلے خوش نہیں تھے، دھرنا کیس فیصلہ تو دو جج صاحبان نے لکھا، دوسرے جج صاحب کیخلاف کیوں کچھ نہیں کہا گیا، فروغ نسیم

یہ بھی یاد رکھیں نظرثانی درخواستوں میں بھی دوسرے جج صاحب سے متعلق کوئی بات نہیں کہی گئی، جسٹس منصور علی شاہ

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے درخواستوں میں ایسی باتیں کہیں جنھیں دیکھ کر زندہ نہیں رہا جاسکتا، فروغ نسیم

یہ ہمارے معاشرے کی نفسیات بن چکی ہے کہ کسی شخص کو بات نہیں کرنے دینی، اب یہ ہماری خراب ثقافت بن چکی ہے کہ کوئی بات نہ کرے، اب اپنا کام کرنے کی بھی آزادی نہیں ہے، جسٹس مقبول باقر

بدنیتی کے مبہم الزامات لگائے گئے، فروغ نسیم

بدنیتی عمل سے ظاہر ہوتی ہے، جسٹس مقبول باقر

بدنیتی آسانی سے ظاہر نہیں ہو سکتی، جسٹس عمر عطا بندیال

لگتا ہے آپ بھی تنگ آچکے تھے، آپ نے الماری سے ثبوت نکالے اور خبر لگوانے کیلئے حوالے کردی، جسٹس عمر عطا بندیال

اثاثہ جات ریکوری یونٹ میں بیس فیصد حصے کی لالچ میں کئی لوگوں نے درخواستیں دیں، فروغ نسیم

ہمیں ان دیگر لوگوں کی فہرست دیں جنھوں نے اثاثہ جات ریکوری یونٹ کو درخواستیں دیں، ہماری نظر میں وحید ڈوگر کی کوئی اہمیت نہیں وہ تو ایسے ہی بیچارہ ہے، جسٹس مقبول باقر

جہانزیب عباسی اسلام آباد میں مقیم صحافی ہیں جو سپریم کورٹ سے رپورٹ کرتے ہیں۔ گزشتہ پانچ برس سے بجی ٹی وی چینل سے منسلک ہیں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے