پاکستان پاکستان24

ادویہ ساز کمپنیاں مافیا ہیں: چیف جسٹس

جون 26, 2020

ادویہ ساز کمپنیاں مافیا ہیں: چیف جسٹس

پاکستان کی سپریم کورٹ میں نجی کمپنی کی جانب سے ادویات کی قیمتوں میں اضافے سےمتعلق درخواست کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس ‏گلزاراحمد نے کہا ہے کہ ادویات ساز کمپنیاں بہت بڑا مافیا ہے، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آخرکر کیا رہی ہے، حکومت ‏ صرف کاغذی کارروائی کرتی ہے فیصلہ ‏کرنے کی ہمت نہیں، حکومت خود کچھ کرتی نہیں، معاملہ ہمارے ‏گلے ڈال دیا جاتا ہے۔

جہانزیب عباسی

جمعے کو چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے ادویات کی قیمتوں میں اضافےسےمتعلق کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نےریمارکس دیے کہ ‏پاکستان میں ادویات سازوں کابہت بڑا مافیا ہے، کیا وفاقی کابینہ نے ادویات کی ‏قیمتوں سےمتعلق کوئی فیصلہ کیا؟

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ یہ معاملہ کابینہ ‏نہیں ٹاسک فورس کوبھیجا گیا تھا۔ جسٹس اعجازالاحسن نےکہالگتا ہےٹاسک ‏فورس فیصلہ کرنےکےبجائےمعاملےپربیٹھ ہی گئی ہے۔

چیف جسٹس نےریمارکس دیے کہ ادویہ سازکمپنیاں خام مال خریداری کے نام پرسارا منافع ‏باہربھیج دیتی ہیں، حکومت کوئی کام نہیں کررہی، ڈریپ کہتی ہے ‏مُٹھی گرم کرو تو سارا کام ہوجائےگا، حکومت خود فیصلہ کرتی نہیں اورہائی کورٹ ‏کے فیصلے چیلنج کرتی ہے، معاملہ ہمارے گلے میں ڈال دیا جاتا ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نےکہا قیمت پوری نہ ملے تو دوائی مارکیٹ سےغائب کردی ‏جاتی ہے۔ جسٹس اعجازالاحسن نےکہا کہ ڈریپ بروقت فیصلہ نہ کرے تو مقررہ مدت ‏کےبعد ازخود قیمت بڑھ جاتی ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نےکہا کہ نجی کمپنی نےآٹھ ‏دوائیوں کی قیمت بڑھائی، ڈریپ نےایکشن لیا تو سندھ ہائی کورٹ نے حکم امتناع دے ‏دیا۔ عدالت نےسماعت پیر تک ملتوی کر دی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے