”لبرل کرپٹ، مدینے کی ریاست بناؤں گا“
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سٹاک ایکسچینج حملے میں انڈیا ملوث ہے۔
عمران خان نے کہا کہ وہ اپوزیشن کی باتوں کو مائنڈ نہیں کرتے ”کیونکہ ان کا مجھے پتہ ہے، میں مائنڈ نہیں کرتا کیونکہ یہ سہمیت نہیں رکھتے۔“
منگل کو قومی اسمبلی میں انہوں نے کہا کہ ”یہ صاحب امریکہ جاتے ہیں۔ ان سے پوچھا گیا پی ٹی آئی اور ن لیگ میں فرق کیا ہے۔ اس نے کہا ن لیگ لبرل ہے پی ٹی آئی مذہبی جماعتوں کے قریب ہے۔ ہاں یہ لبرلی کرپٹ ہیں۔“
عمران خان نے کہا کہ ان سیاسی جماعتوں نے مغرب جاکر ایک ہی بات کہی کہ ہمیں بچا لو ورنہ دینی لوگ پاکستان پر قبضہ کرلیں گے۔ ”میں نے اقوام متحدہ میں بتایا کہ ریاست مدینہ کیا تھی۔ میں نے اقوام متحدہ میں بتایا کہ یہودی حضرت علی سے کیس جیت جاتا ہے یہ تھی ریاست مدینہ۔“
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اگر ان کی بات سنی جاتی تو وہ لاک ڈاؤن بھی نہ کرنے دیتے جو کیا گیا۔ انہوں نے کہا چونکہ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبے خود فیصلے کر سکتے ہیں اس لیے لاک ڈاؤن ہوا۔
‘کنسٹرکشن انڈسٹری کو چلتے رہنے دینا چاہیے تھا، تعمیراتی شعبہ کی خود نگرانی کررہا ہوں۔ تعمیراتی شعبہ سے نوجوان نسل کو نوکریاں ملیں گی۔ زراعت اور صنعتی شعبہ پر توجہ دی جارہی ہے۔ چین سے ہمارے دوستانہ تعلقات ہیں۔ ہمارا ملک دنیا کیلئے مثال بنے گا جیسے 60 میں تھا۔“
وزیراعظم نے کہا کہ جب وبا پھوٹی تو سب یورپ کی طرف دیکھ رہے تھے کیوں کہ وہاں لاک ڈاؤن ہو رہے تھے۔
‘ہمارے حالات یرپی ممالک سے بہت مختلف ہیں ہمارے ہاں بہت غربت ہے’
انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے جہاں دیہاڑی دار طبقہ بہت بڑی تعداد میں وہاں لاک ڈاؤن کیسے کیا جا سکتا ہے۔
‘ایک کمرے میں آٹھ آٹھ لوگ رہتے ہیں ان کو کیسے ایک دوسرے سے دور رکھا جا سکتا تھا۔
عمران کے بقول سمارٹ لاک وبا سے نمٹنے کا بہترین راستہ ہے۔
‘اب دنیا بھی مان گئی ہے اور ہر جگہ لاک ڈاؤن کو سمارٹ بنایا جا رہا ہے’
ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ جیسے امیر ملک میں لو گ قطاروں میں لگ کر کھانا لینے پر مجبور ہیں’
وزیراعظم نے کہا ہم پر بہت پریشر ڈالا گیا، تنقید کا نشانہ بنایا گیا شکر ہے کہ پھر بھی درست فیصلے کیے۔
عمران خان نے کہا کہ ”اپنے تمام اخراجات جیب سے کرتا ہوں۔ صرف سفری اور سیکیورٹی اخراجات میں نہیں کرتا۔ باقی تمام اخراجات خود کرتا ہوں۔ کرسی آنے جانے کی چیز ہے کبھی بھی جاسکتی ہے۔ سب سے اہم چیز نظریہ ہے جسے نہیں چھوڑنا چاہئے۔
وزیراعظم عمران خان نے بلاول بھٹو کی نقل اتارتے ہوئے کہا کہ جب بارش آٹا ہے تو پانی آتا ہے اور جب زیادہ بارش ہوتا ہے تو زیادہ پانی آتا ہے۔
انہوں نے نواز شریف اور خواجہ آصف کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

