کراچی میں کیپٹن صفدر گرفتار، صوبائی حکومت بے خبر
کراچی میں مسلم لیگ ن کے رہنما کیپٹن صفدر کو گرفتار کیے جانے کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا جبکہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے گرفتاری کی مذمت کی ہے۔
سندھ میں پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت نے کیپٹن صفدر کی گرفتاری سے لاتعلقی ظاہر کی۔
سندھ کے سابق گورنر اور مسلم لیگ ن کے رہنما محمد زبیر نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ نے ان کو بتایا کہ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی گرفتاری کے لیے پولیس پر "ریاست” نے دباؤ ڈالا۔
صحافی حامد میر کے ایک ٹویٹ کے مطابق محمد زبیر نے بتایا کہ رینجرز نے سندھ پولیس کے سربراہ کو اغوا کر کے کیپٹن صفدر کے خلاف مقدمہ درج کرایا اور ان کی گرفتاری کے احکامات جاری کرائے۔
دوسری جانب سندھ کے وزیر تعلیم سعید غنی نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ مزار قائد پر کیپٹن صفدر نے جو کچھ کیا وہ نامناسب تھا لیکن جس انداز میں کراچی پولیس نے گرفتاری کی وہ قابل مذمت ہے۔
سعید غنی کے مطابق کیپٹن صفدر کی گرفتاری سندھ حکومت کی ہدایت پر نہیں ہوئی، پولیس کا یہ اقدام پی ڈی ایم کی جماعتوں میں خلیج پیدا کرنے کی سازش کا حصہ ہے اور ہم اس سازش کو ناکام بنائیں گے۔
ادھر سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے تھانہ عزیز بھٹی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سٹیٹ کی جانب سے ایسا آپریشن کیا گیا جیسے دشمنوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔
محمد زبیر کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ پولیس پر سٹیٹ کا شدید دباؤ ہے۔
ن لیگی رہنما نے کہا کہ کیپٹن صفدر کو غیر قانونی طریقے اور غلط دفعات کے تحت گرفتار کیا گیا، جان سے مارنے کی دفعات لگائی گئیں کیپٹن صفدر کے پاس اسلحہ تھا ہی نہیں۔
محمد زبیر نے کہا کہ وفاقی حکومت اوچھے ہتکھنڈے استعمال کررہی ہے۔ صفدر نے مزار قائد پر جو نعرے بازی کی وہ معاملہ بہت پیچھے رہ گیا، مقدمہ میں ناجانے کیوں قتل کی دھمکی کی دفعہ شامل کی گئی۔
قبل ازیں پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے کہا تھا کہ کراچی کے ایک نجی ہوٹل میں مقامی پولیس نے ان کے کمرے میں زبردستی داخل ہو کر ان کے شوہر کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو گرفتار کر لیا۔
مریم نواز نے پیر کی صبح ٹویٹ میں اپنے شوہر کی گرفتاری کی خبر دی۔
پیر کی صبح کپٹن صفدر اور مریم نواز سمیت 200 افراد کے خلاف مزارِ قائد پر سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے سلسلے میں مقدمہ درج کیا گیا ۔
مقدمے میں محمد علی جناح کی قبر کی بے حرمتی کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔
کیپٹن صفدر اور دیگر کے خلاف یہ مقدمہ وقاص احمد خان نامی شہری کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔

