پاکستان24

رینجرز نے آئی جی سندھ کو یرغمال بنایا: اپوزیشن رہنما

اکتوبر 19, 2020

رینجرز نے آئی جی سندھ کو یرغمال بنایا: اپوزیشن رہنما

پاکستان میں اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد ڈیموکریٹک موومنٹ کے رہنماؤں نے کراچی میں کیپٹن صفدر کی گرفتاری کے خلاف پریس کانفرنس میں اس واقعہ کا ذمہ دار رینجرز کو قرار دیا ہے۔

مولانا فضل الرحمان، مریم نواز اور راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ اپوزیشن اتحاد اس گرفتاری سے تقسیم نہیں ہوگا کیونکہ اس کے پیچھے سندھ حکومت نہیں۔

مریم نواز نے کہا کہ سندھ پولیس کے سربراہ کو رینجرز کے سیکٹر کمانڈ میں لے جا کر زبردستی کیپٹن صفدر کی گرفتاری کے وارنٹ پر دستخط کرائے۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ ”میں بلاول بھٹو زرداری کی شکر گزار ہوں۔انہوں نے مجھے فون کیا ، وہ بہت غصے میں تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ہماری بہن کے ساتھ اس طرح کا سلوک ہوگا۔“

مسلم لیگ ن کی نائب صدر نے کہا کہ ان کو ایک لمحے کو بھی نہیں لگا کہ سندھ حکومت کی کارروائی ہے۔ اگر کوئی سمجھتا ہے اس سے پی ڈی ایم میں دراڑ جائے گی تو اس کی غلط فہمی ہے۔

انہوں نے کہا کہ  قائد اعظم کے مزار پر اگر کسی نے قائد اعظم ہی کا بیانیہ دہرایا تو توہین ہو گئی؟ میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ ووٹ کو عزت دو سے کس کو ڈر لگتا ہے۔ میں جانتی ہوں مادر ملت زندہ باد سے کس کو ڈر لگتا ہے۔ اس سے انہیں ڈر لگتا ہے انہیں ڈر لگتا ہے۔ یہ جو نامعلوم افراد ہیں یہ سب کو معلوم ہی ہیں۔ خلائی مخلوق سے آپ زمینی مخلوق بن گئے تو کیا لوگوں کو سمجھ نہیں آئے گی؟ قتل کی دھمکی کا پرچہ درج کرانے والا وقاص احمد خان دہشت گردی کورٹ کا مفرور ہے۔ ان پرچوں کے مدعی ایک جیسے کیوں ہوتے ہیں۔

مریم نواز نے کہا کہ کیپٹن صفدر کو کافی عرصہ سے دھمکیاں آ رہی تھیں ۔ وہ ایموشنل سے آدمی ہیں، وہ بات کر دیتے ہیں۔ میرے رشتوں کے ذریعے مجھے بلیک میل کرنے کی بجائے آؤ ، مجھے گرفتار کرو۔ میں یہاں بیٹھی ہوں۔
مجھے اس واقعے کی ساری تفصیل مراد علی شاہ صاحب نے بتائی ہے لیکن میں تحقیقات کا اعتبار کر رہی ہوں ۔
ایک سوالکے جواب میں مریم نواز نے کہا کہ ”مولانا صاحب نے تو کچھ لحاظ کیا میں بالکل نہیں کروں گی۔ آئی جی سندھ پولیس کو سیکٹر کمانڈر کے آفس میں لے جا کر زبردستی اریسٹ آرڈر پر دستخط لیے گئے۔ یہ کون لوگ ہیں آپ سب جانتے ہیں“

سابق وزیراعظم اور پیپلز پارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ  ”ہمارے وزیر اعلیٰ کو اس واقعے سے لاعلم رکھا گیا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ ہمارے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری صاحب اور آصف زرداری صاحب کو اس واقعے پر بہت دکھ ہے۔ سندھ کی ثقافت ہے کہ ہم اپنے مہمانوں کے لیے کسی حد تک بھی جانے کے لیے تیار ہیں۔ اس واقعے کی مکمل انکوائری ہو گی“

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے