ثبوت دیں کہ فوج میری پُشت پناہی کر رہی ہے: عمران خان
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ انسان کو اپنے نظریے اور اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کہیں نہ کہیں سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے۔
نجی چینل دنیا نیوز کو انٹرویو میں ایم کیو ایم سے اتحاد کرکے حکومت بنانے کے سوال پر عمران خان نے جواب دیا کہ ’یوٹرن میری نظر میں تب ہوگا جب آپ اپنے نظریے پر کمپرومائز کریں۔ مثال کے طور پر اگر میں اسرائیل کو تسلیم کر لوں تو یہ نظریے پر سمجھوتہ ہوگا۔‘
انہوں نے وضاحت کی کہ میں نے کہا تھا کہ اگر مجھے پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ ن کے ساتھ مل کر حکومت بنانا پڑی تو پھر میں اقتدار میں نہیں آؤں گا۔
عمران خان نے کہا کہ اگر ہم ان لوگوں کے ساتھ حکومت بناتے تو احتساب نہیں ہونا تھا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اگر میرے کسی وزیر پر کرپشن کا الزام لگا تو میں اس کے خلاف کارروائی کروں گا۔
’میں چیف جسٹس سے کہوں گا کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر ایسے کیس کی سماعت کر کے اس کا جلد فیصلہ کریں۔‘
عمران خان نے دعویٰ کیا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار شوگر مافیا کے خلاف کارروائی ہوئی اور میرٹ پر انکوائری ہو رہی ہے۔
’شوگر مافیا میں سب سے پہلے شریف خاندان آیا۔ آصف زرداری، نواز شریف اور وزیروں نے شوگر ملیں بنائیں۔ چینی صرف کاغذوں میں برآمد کی جاتی تھی۔‘
جہانگیر ترین کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ جب وہ سپریم کورٹ سے نااہل ہوئے تو ان سے پارٹی کا عہدہ واپس لے لیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ وہ نیب کے کاموں میں مداخلت کرتے ہیں نہ فون کرتے ہیں۔ کیا علیم خان اور سبطین خان کو میرے کہنے پر جیل میں ڈالا گیا؟
اپوزیشن کے بارے میں عمران خان نے کہا کہ ایک طرف کہتے ہیں کہ میں فاشسٹ ہوں اور دوسری طرف کہتے ہیں کہ میں کٹھ پتلی ہوں۔ اپوزیشن فیصلہ کر لے کہ میں فاشسٹ ہوں یا کٹھ پتلی؟
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ’فوج کو پتا ہے کہ عمران خان کرپشن نہیں کر رہا، پیسے چوری کر کے جائیدادیں بنا رہا ہے نہ کوئی کاروبار کر رہا ہے۔‘
وزیراعظم نے کہا کہ ’فوج جانتی ہے کہ عمران خان پاکستان کے لیے کام کر رہا ہوں۔‘
انہوں نے کہا کہ فوج حکومت کا ایک ادارہ ہے، فوج ہر اس وزیراعظم کا ساتھ دے گی جو پاکستان کے لیے کام کرے گا۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ’نواز شریف نے آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف کو نشانہ بنایا۔ بُزدل آدمی یہاں خاموش بیٹھا رہا، باہر جا کر فوج پرتنقید شروع کر دی۔‘
عمران خان نے سوال کیا کہ ’کس جمہوریت میں آرمی چیف سے کہا جاتا ہے کہ حکومت کو ہٹائیں؟‘
انہوں نے کہا کہ ‘حیرت ہے کہ یہ فوج سے کیا چاہتے ہیں، ثبوت دیں کہ فوج میری پُشت پناہی کر رہی ہے۔‘
عمران خان نے کہا کہ ’اپوزیشن کی ساری سیاست اقتدار میں آکر مال بنانا ہے، مجے ان سب کی ہسٹری معلوم ہے۔ اپوزیشن این آر او کے لیے مجھے بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، میں ان سے بلیک میل نہیں ہوں گا۔‘
اپوزیشن جو مرضی کر لے،جلسے کر لے، میں انہیں این آر او نہیں دوں گا۔ اگر میں نے انہیں این آر او دیا تو اس کا مطلب ملک سے غداری ہوگا یعنی میں بھی موقع پرست ہوں گا۔

