رکن اسمبلی نے تنقید پر فوجداری مقدمہ کیسے درج کرا دیا؟ ہائیکورٹ
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی عدالت نے تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی کنول شوزب اور پڑوسی کے مابین جھگڑے پر ایف آئی اے کے پیکا قانون کے تحت مقدمہ درج کرنے کے اختیار پردلائل طلب کیے ہیں۔
جمعرات کو سماعت کے دوران کنول شوزب اور پڑوسی عبدالرحمان نےعدالت میں بیان دیاکہ ہماری صلح ہوگئی، مقدمات واپس لیتے ہیں،جس پر عدالت نے صلح قبول کرلی تاہم ایف آئی اے کا اختیار سے تجاوز بادی النظر میں خلاف قانون قرار دیتے ہوئے کہاکہ عوامی عہدہ رکھنے والی ایم این اے نے تنقید پر فوجداری مقدمہ کیسے قائم کرادیا؟
عدالت نے قرار دیا کہ ایف آئی اے نے الیکٹرونک کرائم قانون کا ناجائز استعمال کرکے طاقتورکو فائدہ دیا،منتخب ایم این اے نے تنقید پر پڑوسی سے جھگڑے کو کریمنل کیس بنادیا،ہر کوئی دوسرے کا احتساب چاہتا ہے لیکن خود کو طاقتور بنا کراحتساب سے بچا لیتا ہے، عدالت صلح پر فریقین کا کیس ختم کرتی ہے لیکن ایف آئی اے کی حدود متعین کریں گے۔
پڑوسیوں کے جھگڑے پر ایف آئی اے کا الیکٹرونک کرائم نوٹس کیسے جاری ہوا ؟عدالت نے ایف آئی اے کے پیکا قانون کے اختیار پر دلائل طلب کرلیے۔

