مہنگائی بڑھ گئی، خود نمٹوں گا: امریکی صدر
امریکی صدر جو بائیڈن نے تسلیم کیا ہے کہ ملک میں مہنگائی بڑھی ہے اور شہری روزانہ کی بنیاد پر اشیائے خوردونوش کی خریداری کے لیے بہت زیادہ رقم خرچ کر رہے ہیں۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ مہنگائی کے مسئلے سے خود براہ راست نمٹیں گے۔
امریکہ کے سرکاری اعداد وشمار کے مطابق ملک میں مہنگائی کی شرح 30 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔
بالٹی مور میں خطاب کرتے ہوئے بائیڈن نے کہا کہ ’آج کی معاشی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ بے روزگاری میں کمی واقع ہو رہی ہے لیکن اشیا کی خریداری کے لیے قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
صدر بائیڈن نے مزید کہا کہ ’گیس کے گیلن سے لے کر ڈبل روٹی کے ٹکڑے تک سب مہنگا ہے۔ اگرچہ اجرت میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن ہمیں اب بھی چیلنج کا سامنا ہے اور ہمیں ان سے نمٹنا ہوگا۔ ہمیں ان سے براہ راست نمٹنا ہوگا۔‘
امریکہ حالیہ سالوں سے مہنگائی کے مسئلے سے دوچار نہیں تھا تاہم 2021 میں جب ویکسینیشن کے بعد کاروبار معمول پر آئے تو مہنگائی کے طوفان نے سر اٹھا لیا۔
امریکی کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) گذشتہ سال اکتوبر کی نسبت 6.2 فیصد بڑھ گیا جو نومبر1990 کے بعد پہلی بار اس بلند سطح پر پہنچا۔
لیبر ڈیپارٹمنٹ کے مطابق ستمبر کی نسبت سی پی آئی 0.9 تک بڑھ گیا جو پچھلے ماہ سے دو گُنا سے بھی زیادہ ہے۔

