حکومتی پالیسیوں پر عمل درآمد میں ساتھ دیں گے: جنرل باجوہ
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اور فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملک کے معروف صنعت کاروں اور تاجروں کے وفد نے اسلام آباد میں ملاقات کی ہے۔
بدھ کو ملاقات کے بعد جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت اور صنعت کاروں نے کم سے کم ماہانہ اجرت بڑھانے پر اتفاق کیا اور صنعتوں کے فروغ کے لیے طویل مدتی پالیسیوں کے تسلسل پر زور دیا۔
صنعت کاروں اور تاجروں سے ملاقات میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ’حکومت عالمی منڈی میں مہنگائی اور اس کی وجہ سے عوام پر بوجھ کا احساس رکھتی ہے۔عام آدمی کو مہنگائی کے اثرات سے بچانے کے لیے اقدامات لیے جا رہے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’صنعت کار اور کاروباری حضرات عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے حکومت کے ساتھ مل کر چلیں۔ کاروبار دوست پالیسیوں کی بدولت ملک کی دس بڑی کمپنیوں نے پچھلے سال 929 ارب روپے منافع کمایا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ٹیکسٹائل سیکٹر کی برآمدات 21 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچیں اور اگلے سال 26 ارب ڈالر کی برآمدات متوقع ہیں۔‘
عمران خان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان دنیا کا چوتھا سب سے بڑا موٹر سائیکل بنانے والا ملک بن چکا ہے۔ ٹریکٹرز کی برآمدات میں 10 فیصد اضافہ ہوا ہے جس میں 90 فیصد پارٹس مقامی طور پر تیار کیے جاتے ہیں۔‘
وزیراعظم نے کہا کہ ’دفاعی پیداوار کے شعبے میں وسیع مواقع موجود ہیں جن کا پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر میں اشتراک سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔‘
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس ملاقات کے دوران کہا کہ ’ملک کی ترقی کی خاطر حکومتی پالیسیوں کے عمل درآمد میں پورا ساتھ دیں گے۔‘
وزیراعظم نے کہا کہ ’وہ دورہ چین کے دوران پاکستانی اور چینی صنعت کاروں کے درمیان جوائنٹ وینچرز اور مشترکہ بزنس منصوبے شروع کرنے پر بات کریں گے۔‘

