کم عمر طالبہ سے مدرسے کے مہتمم کے بیٹے کی مبینہ جنسی زیادتی، مقدمہ درج
خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں ایک کم عمر طالبہ سے مدرسے کے مہتمم کے بیٹے نے جنسی زیادتی ہے جس کا مقدمہ درج کر کے ملزم کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
تھانہ سرڈھیری کو دیے گئے بیان میں متاثرہ طالبہ نے بتایا کہ اس کی عمر 15 برس ہے اور وہ جامعہ العلوم للبنات میں زیرتعلیم ہے۔
طالبہ کے مطابق ملزم مدرسے کے مہتمم کا بیٹا ہے اور گزشتہ کچھ عرصے سے اس کو بلاتا رہتا ہے تاہم وہ کبھی نہیں گئیں۔
طالبہ نے ایک ویڈیو بیان میں بتایا کہ وقوعہ کے دن وہ مدرسے کی دوسری منزل پر امتحان میں اپنے نمبر دیکھنے گئی جہاں قاری سعید الرحمان (مدرسے کے مہتمم) کے بیٹے نے اس کو دبوچ لیا۔
متاثرہ طالبہ نے بتایا کہ ملزم نے اس کے ہاتھ کپڑے سے باندھے اور جنسی زیادتی کی۔
طالبہ کے شور مچانے پر اس کی بہن اور مدرسے میں زیرتعلیم ایک طالبہ اوپر کی منزل آئیں جبکہ ملزم موقع سے فرار ہو گیا۔
متاثرہ طالبہ کے مطابق اس نے کسی کو واقعے کا نہیں بتایا مگر جب وہ گھر والدہ سے ملنے گئیں تو چھوٹی بہن نے اس بارے میں بات کی جس پر اُن کے والد تھانے گئے اور مقدمہ درج کرایا۔
مقامی لوگوں کے مطابق پولیس نے مدرسے کے مہتمم کے بیٹے کے خلاف مقدمہ درج کرنے میں تاخیری حربے استعمال کیے جس پر علاقہ مکینوں نے احتجاج کیا۔
شہریوں کے دباؤ پر پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے تاہم تاحال ملزم کو گرفتار نہیں کیا جا سکا۔

