پاکستان

پنجاب اسمبلی میں حمزہ شہباز کے 197 ووٹ، وزیراعٌلی منتخب

اپریل 16, 2022

پنجاب اسمبلی میں حمزہ شہباز کے 197 ووٹ، وزیراعٌلی منتخب

پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ ن کے امیدوار حمزہ شہباز 197 ووٹ لے کر قائد ایوان منتخب ہو گئے ہیں۔

سنیچر کو دن بھر پنجاب اسمبلی میں ہنگامہ آرائی، لڑائی جھگڑے اور تشدد کے واقعات کے بعد شام کو وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے لیے ووٹنگ کے عمل کا آغاز ہوا تو تحریک انصاف اور ق لیگ نے بائیکاٹ کر دیا۔

افطار سے چند لمحے قبل ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری نے ایوان میں ووٹنگ کے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ پرویز الہیٰ کے حق میں کسی رکن نے ووٹ کاسٹ نہیں کیا جبکہ حمزہ شہباز شریف کو 197 ووٹ ملے۔

حمزہ شہباز نے وزیراعلیٰ منتخب ہونے کے بعد اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران صوبے میں ہیجانی کیفیت رہی۔ ’سب چیزوں کے باوجود آج جمہوریت کی فتح ہے۔ یہ اسمبلی کے ایوان میں بیٹھے ہر ایک رکن کی فتح ہے۔‘

قبل ازیں پنجاب اسمبلی کے سپیکر پرویز الہیٰ ایوان میں دنگا فساد کے دوران زخمی ہو گئے تھے.

پرویز الہیٰ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے روہانسے ہو گئے اور کہا کہ ان کا اللہ کا سوا کوئی نہیں۔

شام سے قبل پنجاب اسمبلی میں دنگا فساد کرنے والے تحریک انصاف کے ارکان کو روکنے کے لیے پولیس اہلکار داخل ہوئے اور سکیورٹی حصار میں اجلاس کا آغاز کیا گیا.

سنیچر کی صبح پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری پر تحریک انصاف کے اراکین نے تشدد کیا .

ان کو پولیس کمانڈوز نے بچایا۔

دوست محمد مزاری جیسے ہی ہال میں داخل ہوئے، ان پر تھپڑوں اور لوٹوں کی بارش کر دی گئی۔

مسلم لیگ ن کے رہنما عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ گنتی سب کے سامنے ہے، چوہدری پرویز الٰہی ہار رہے ہیں، اس لیے یہ غنڈہ گردی پر اتر آئے ہیں۔ چیف جسٹس صورت حال کا سوموٹو نوٹس لیں۔

انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں پاکستان کا کیا میسج گیا، اقتدار کی خاطر ملک کی عزت و وقار کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ جن لوگوں نے ڈپٹی سپیکر پر حملہ کیا ہے، ان کو معطل کیا جائے۔

حکومت کی جانب سے وزرات اعلیٰ کے امیدوار اور مسلم لیگ ق کے رہنما چوہدری پرویز الٰہی نے پولیس کے ایوان میں داخل ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملکی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا۔

چوہدری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ اس کے ذمے دار آئی جی پنجاب ہیں، ان کو ایوان میں بلا کر ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔

قومی اسمبلی میں پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر پر ہونے والے تشدد کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کی گئی۔

مسلم لیگ ن کی رکن قومی اسمبلی شیزا فاطمہ نے قرارداد پیش کی۔ جس کو متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔

سنیچر کو قومی اسمبلی میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ہار سامنے دیکھ کر جیسے ہتھکنڈے قومی اسمبلی میں اپنائے گئے تھے اس سے زیادہ پنجاب اسمبلی میں اپنائے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چوہدری پرویز الٰہی اور عمران خان نے جب دیکھا کہ شکست نوشتہ دیوار بن گئی ہے تو انہوں نے غنڈہ گردی کا سہارا لیا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے