ملک میں بجلی کا بریک ڈاؤن، انکوائری کمیٹی سے چار دن میں رپورٹ طلب
پاکستان کے وزیر توانائی خرم دستگیر نے کہا ہے کہ ملک کے جنوب میں پاور بریک ڈاؤن سے آٹھ ہزار میگاواٹ بجلی نکل گئی تھی جس میں سے چار ہزار 700 میگاواٹ سسٹم میں واپس لے آئے ہیں۔
جمعرات کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں وزیر توانائی نے بتایا کہ رات تک بجلی کی مکمل بحالی ممکن ہو سکے گی۔ ’فالٹ کی انکوائری رپورٹ چار دن میں سامنے آ جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ملتان، فیصل آباد میں بجلی مکمل بحال ہے۔ سکھر سے دادو تک بھی جزوری بحال ہو گئی ہے۔ ’کراچی، حیدر آباد اور کوئٹہ کو مکمل بحال کیا جا رہا ہے۔‘
خرم دستگیر نے کہا کہ کوئٹہ الیکٹرک کمپنی سبی تک جزوی طور پر بحال ہو گئی ہے۔ پوری تندہی اور ولولے سے کوشش کر رہے ہیں۔
’تین طرح کی ٹیمیں اس وقت فیلڈ میں ہیں۔ چار دن میں انکوائری مکمل کر کے وزارت توانائی کو رپورٹ پیش کی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ کامیابی یہ ملی کہ ملک کے شمال کو اس بریک ڈاؤن سے محفوظ رکھا۔ کوشش ہے کہ مغرب سے عشا تک سسٹم کو مکمل بحال کر دیں گے۔نیوکلیئر پلانٹس اور کوئلے سے چلنے والے پلانٹس کو دوبارہ چلانے کے لیے کچھ گھنٹے درکار ہوتے ہیں۔ ایک چیلنج ضرور درپیش ہوا تھا مگر کامیابی سے نمٹ لیا ہے۔
وزیر توانائی نے کہا کہ کراچی کے جنوب میں دو لائنیں ہیں کے ٹو، کے تھری جامشورو وہاں خرابی پیدا ہوئی تھی۔ اس کی انکوائری ہو رہی ہے کہ دونوں لائنوں میں ایک ساتھ کیسے فالٹ آیا۔
ان کا کہنا تھا کہ مغرب سے عشاء کے دوران سسٹم مکمل بحال ہو جائے گا۔

