پاکستان

جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات کے خلاف احتجاج

اکتوبر 13, 2022

جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات کے خلاف احتجاج

پاکستان کے صوبے بلوچستان میں بھی جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔

ایک روز قبل کوئٹہ پریس کلب کے سامنے ڈیرہ مراد جمالی میں سی ٹی ڈی کے ہاتھوں لاپتہ افراد کے قتل،جبری گمشدگی کے واقعات میں تیزی اور لاپتہ افراد کی عدم بازیابی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

مظاہرے میں لاپتہ افراد کے ورثا،سول سوسائٹی کے نمائندوں اور طلبا سمیت ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد شریک ہوئے۔

مقررین کا کہنا تھا لاپتہ افراد اور زیرحراست اموات کے واقعات انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے،اگر کسی کا کوئی قصور ہے تو اسے عدالتوں کے روبرو پیش کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کو انسانی حقوق کے حوالے سے دیکھا جانا چاہئے،جب کسی گھر سے بچہ گم ہو جاتا ہے تو ان پر کیا گزرتی ہے کیا کسی کو احساس ہے؟ آپ زندہ انسانوں کو غائب کرتے ہو،آپ نے ہمیشہ طاقت کا استعمال کیا جس کی وجہ سے ہی لوگوں کے دلوں میں نفرت پائی جاتی ہے۔

بلوچ طالب علم رہنما ذاکر مجید بلوچ کی والدہ،آصف بلوچ اور رشید بلوچ ،غلام فاروق سرپرہ،عبدالکریم سمیت متعدد ورثا نے اپنے پیاروں کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے