ڈی ایچ آر کا جنرل باجوہ سے لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کرنے کا مطالبہ
پاکستان میں لاپتہ افراد کی بازیابی کی تنظیم ڈیفنس آف ہیومن رائٹس (ڈی ایچ آر)نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے مطالبہ کیا ہے کہ جاتے جاتے ”جبری گمشدگی ” جیسے انسانیت سوز مسئلے کو حل کریں تاکہ وطن عزیز کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے نجات حاصل ہو سکے اور سالہا سال سے انصاف کے متلاشی لاپتہ افراد کے ورثاء کوانصاف مل سکے۔
تنظیم کی چیئرپرسن آمنہ مسعود جنجوعہ کا کہنا تھا کہ 6 جولائی2019 کو ان کی ملاقات ڈی- جی آئی ایس پی آر جنرل آصف غفور سے ہوئی جس میں لاپتہ افراد/ جبری گمشدگی کے مسئلہ پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔
ملاقات کے دوران جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد ہمارے بھی ہیں اور اس مسئلہ کو دیکھ کر میرا دل دکھتا ہے. انہوں نے بتایا کہ جی ایچ کیو میں ایک سیل موجود ہے جس کی نگرانی جنرل قمرجاوید باجوہ خود کر رہے ہیں اور اس مسئلہ کو حل کیا جائے گا۔
آمنہ مسعود جنجوعہ کا کہنا تھا کہ اس ملاقات کے بعد میرے اور بہت سے لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے اندر امید کی کرن جاگی اور انہیں محسوس ہوا کہ بہت جلد اس مسئلہ کا حل نکل آئے گا اور ہمارے پیارے بہت جلد بازیاب ہو جائیں گے،اس ملاقات کے بعد آٹھ سال سے لاپتہ دوبھائی رہا ہوگئے۔اسی سلسلے میں جنرل آصف غفور نے دوبارہ ملاقات کے لیے 19 ستمبر 2019کو مدعو کیا مگر بدقسمتی سے میرے والد صاحب کا انتقال ہو گیا اورملاقات کے لیے نہ جا سکیی ،اس کے بعد آصف غفور کا تبادلہ ہو گیا اور دوبارہ ملاقات نہ ہو سکی۔
آمنہ مسعود جنجوعہ کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کے ورثا سالہا سال سے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں ،ہر دروازے پر دستک دے رہے ہیں لیکن انہیں کہیں سے انصاف نہیں مل سکا ان کے پیارے بازیاب نہیں ہوئے۔
چیئرپرسن آمنہ جنجوعہ نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ اداروں کے وقار میں اضافہ نہیں کر رہا اگر جنرل قمر جاوید باجوہ اپنے عہدے کی مدت پوری ہونے سے قبل اس مسئلہ کو حل کر دیں تووہ قوم کی دکھی ماوؤں بہنوں بیٹیوں کی دعائیں لیں گے اور ان کا قد کاٹھ سابق سپہ سالاروں سے بالا ہو جائے گا۔

