پاکستان

تذلیل سے بہتر گولی مارنا، اعظم سواتی کی گرفتاری پر سینیٹ میں احتجاج

اکتوبر 14, 2022

تذلیل سے بہتر گولی مارنا، اعظم سواتی کی گرفتاری پر سینیٹ میں احتجاج

پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر اعظم سواتی کی گرفتاری کے خلاف پی ٹی آئی کے ارکان نے ایوان بالا (سینیٹ) میں شدید احتجاج کرتے ہوئے ان کے پروڈکشن آڈر کے اجراء کے لیے درخواست جمع کرائی ہے.

جمعے کو ڈپٹی چیئرمین مرزا آفریدی کی زیر صدارت سینیٹ کے اجلاس میں اپوزیشن نے اعظم سواتی کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے درخواست سینیٹ سیکریٹریٹ میں جمع کرا دی ہے۔

اجلاس شروع ہوا تو اپوزیشن اراکین نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں اور اعظم سواتی کو رہا کرو کے نعرے لگائے۔ارکان نے ایوان میں چیئرمین سینیٹ کے ڈائس کا گھیراؤ بھی کیا۔

اسی دوران مسلم لیگ ن کے سینیٹر افنان اللہ نے کورم مکمل نہ ہونے کی نشاندہی کی جس کے بعد ڈپٹی چیئرمین نے اجلاس پیر کی شام چار بجے تک ملتوی کر دیا۔

اجلاس ختم ہونے کے بعد قائد حزب اختلاف ڈاکٹر شہزاد وسیم اور پی ٹی آئی کے سینیٹرز نے پارلیمانی راہداریوں میں احتجاج کرتے اور نعرے لگاتے ہوئے ڈپٹی چیئرمین مرزا آفریدی کے چیمبر پہنچے اور اعظم سواتی کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔

پی ٹی آئی اے سینیٹر اعجاز چوہدری نے ڈپٹی چیئرمین کو بتایا کہ اعظم سواتی نے پیغام بھیجا ہے کہ جو ان کے ساتھ ہوا بہتر ہے انہیں گولی مار دی جاتی۔

بعد ازاں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر پی ٹی آئی کے سینیٹرز نے شہزاد وسیم کی قیادت میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی لوگ جمہوریت کی بات کرتے ہیں لیکن اس وقت آئین کی پاسداری کہاں ہے؟

پی ٹی آئی سینیٹرز نے حکومتی رکن کی جانب سے کورم کی نشاندہی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے پارلیمان سے تو راہِ فرار اختیار کی ہے لیکن کب تک ایسا کرتی رہے گی؟ ’ہم سوال کرتے رہیں گے اور حکومت کو اس کا جواب دینا ہوگا۔‘

سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے بھی اعظم سواتی کی گرفتاری کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاست دانوں کے اسٹبلشمنٹ سے اختلافات ہوتے ہیں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے