پاکستان

عمران خان کے الزامات،چیف جسٹس فل کورٹ کمیشن بنائیں:وزیراعظم

نومبر 5, 2022

عمران خان کے الزامات،چیف جسٹس فل کورٹ کمیشن بنائیں:وزیراعظم

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ عمران خان پر حملہ قابل مذمت ہے،افسوسناک واقعے پر الزام تراشی سے پرہیز کرنا چاہئے۔

سنیچر کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے شخص نے واقعےکی مذمت کی، میں نے اس واقعےکے بعد اپنی پریس کانفرنس ملتوی کر دی تھی، اللہ تعالی عمران نیازی سمیت تمام زخمیوں کو جلد صحت یابی عطا فرمائے، واقعے میں جاں بحق ہونے والےکی اللہ تعالی مغفرت فرمائے۔

انہوں نے کہا کہ دورہ چین میں اللہ کا شکرکہ4 سال کا جمود ٹوٹ گیا، افسوس ناک واقعے پر الزام تراشی سے پرہیز کرنا چاہیے، سی پیک اور دوسرے منصوبوں پر بھی پیش رفت ہوئی، اس موقع پرگھٹیا الزام تراشی سے پرہیز کرنا چاہیے، جھوٹ،گھٹیا پن اور منافقت کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ مجھ پر، وزیر داخلہ پر اور ادارے کے ایک افسر پر جھوٹا الزام لگایا گیا،سوشل میڈیا پر ادارے کے خلاف گندی اور فحش گالیاں چلنے پر بھارت میں خوشیاں منائی جا رہی ہیں، عمران خان سر تا پا جھوٹ کا مجسمہ ہے، پنجاب حکومت، پولیس، اسپیشل برانچ اور آئی بی تمہاری ہے، عمران پر حملے کی تحقیقات کرائیں، اگر عمران خان پر حملے کی ایف آئی آر نہیں کٹ رہی تو پنجاب حکومت سے پوچھیں،حملہ آور کی ویڈیو سامنے آئی ہے، وہ اپنا جرم قبول کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر عمران خان کے پاس ثبوت ہیں، تو مجھے ایک منٹ وزیراعظم رہنے کا حق نہیں ہے، ثبوت ہے تو عمران خان قوم کےسامنے لائیں،ماضی کی طرح جھوٹ نہ بولیں۔

انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومت میں طیبہ گل کو وزیراعظم ہاؤس میں رکھ کر جاوید اقبال کو بلیک میل کیا گیا، چیئرمین نیب جاوید اقبال کو بلیک میل کرکے انہوں نے اپنے کیسز ختم کرائے۔

وزیراعظم نے چیف جسٹس آف پاکستان سے عمران خان کے الزامات کی تحقیقات کے لئے فل کورٹ کمیشن بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس جھوٹ اور فتنہ فساد کے خاتمے کے لئے حقائق قوم کے سامنے لائے لائیں۔ جو فیصلہ ہوگا اسے من و عن تسلیم کروں گا۔ اور یہی کمیشن ارشد شریف کے معاملے کی بھی تحقیقات کرے۔ فل کورٹ کمیشن کے قیام کے لئے چیف جسٹس کو خط لکھوں گا۔

انہوں نے کہا کہ پھر کہتا ہوں اگر سازش کا دور دور تک ثبوت مل جائے تو مستعفی ہو جاؤں گا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے