پاکستان

مٹھی بھرفسادی احتجاج کے نام پر سڑکیں بند کیے بیٹھے ہیں: وزیر داخلہ

نومبر 8, 2022

مٹھی بھرفسادی احتجاج کے نام پر سڑکیں بند کیے بیٹھے ہیں: وزیر داخلہ

وفاقی وزیرِداخلہ رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ صوبائی حکومتوں سے پرزور طریقے سے کہتا ہوں کہ قومی شاہراہیں کھلوا ئیں ،مٹھی بھر فسادیوں کی حفاظت کرنے کے بجائے کروڑوں لوگوں کو مشکلات میں مبتلا کرنے سے گریز کیا جائے۔

منگل کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راناثنااللہ کا کہنا تھا کہ پنجاب اور کے پی میں فتنہ مارچ ہو رہا ہے،مٹھی بھرفسادی احتجاج کے نام پر سڑکیں بلاک کر کے بیٹھے ہیں پولیس تحفظ کر رہی ہے،آج وزارت داخلہ نے تحریری طور پر صوبائی حکومتوں کو یہ ذمہ داری یاد دلائی ہے،اگر صوبائی حکومتوں نے اپنی آئینی ذمہ داری پوری نہ کی تو اس کے آئینی نتائج ہوں گے۔انہوں نے چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ ،پنجاب اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سے گزارش کی کہ اس کا نوٹس لیا جائے۔

وزیرِداخلہ نے کہا کہ یہ کہتا تھا کہ آپ کو پتہ ہی نہیں ہے کیا کرنا ہے،انہوں نے یہ کرنا تھا کہ اب پنجاب اور کے پی کی حدود میں عوام کے لئے مشکل پیدا کئ ہوئی ہے۔ پولیس کی قانونی ذمہ داری ہے کہ راستوں کو کھلوائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عوام نے فتنہ فساد مارچ کو بری طرح مسترد کر دیا ہے ،ملک بھر میں میں چند ہزار لوگ باہر نکلے ہیں، یہ ہے ان کا عوام کا سمندر۔میں ان کے اس عمل کی مذمت کرتا ہوں اور صوبائی حکومتوں کو کہتا ہوں کہ فوری قومی شاہراؤں کو کھلائیں۔ چند مٹھی بھر فسادیوں کو بھگائیں۔ عوام جنہیں تکلیف ہو رہی ہے ان سے معذرت خواہ ہوں اور یقین دلاتا ہوں کہ اس صورت حال کوچلنے نہیں دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے سینئر صحافیوں پر الزامات کی مذمت کرتا ہوں،آپ کھڑے ہو کر پیغمبری کے دعوے کراتے رہے ہیں،آپ نے سیاسی جدوجہد کو جہاد کا درجہ نہیں دیا۔ ریاست فرح گوگی کی تھی آپ نے ریاست مدینہ کانام دیئے رکھا۔

وزیرِداخلہ نے کہا کہ وزیرآباد واقعہ میں نوید ہی ملزم ہے جیسے تحقیق آگے بڑھی ہے یہ واضح ہے،اس کے ٹیلی فون سے جو چیزیں ملی ہیں وہ موٹیویٹڈ ہے،تین دن پہلے اس نے ریوالور خریدا ،جتنے لوگوں سے اس نے بات کی وہ سارے زیر تفتیش ہیں،عمران کی کوشش تھی کہ فتنہ فساد ایجنڈے کی پذیرائی کرے۔ فواد کہتا ہے ایف آئی آر مدعی کی مرضی کی ہوتی ہے کیا کل کوئی چیف جسٹس کا نام لے کر آ جائے تو کیا ایف آئی آر درج ہو جائے گی۔ صوبائی حکومتوں کو وارنگ دیتا ہوں کہ کہُمٹھی بھر فسادیوں کی حفاظت کرتے ہوئے کروڑوں لوگوں کو تکالیف پہنچانے سے گریز کرے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ارشد شریف کا معاملہ غلط شناخت کا نہیں لگتا،کینیا جانے ولی دو رکنی ٹیم واپس آ گئی ہے،اب تک کی معلومات کے مطابق بظاہر ارشد شریف کو قتل کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اب تک معلومات کے مطابق یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ ٹارگٹڈ قتل ہے، وقار احمد اور خرم سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے،
تفتیشی ٹیم کو کہا ہے کہ دبئی جائیں اور مزید تحقیقات کریں۔

وزیرِداخلہ نے کہا کہ کچھ چیزوں پر بات کرنا ابھی قبل از وقت ہو گا۔ وہاں کی پولیس کے متعلق بھی یہ چیزیں سامنے آئی ہیں کہ وہ اس کام کی ماہر ہے،پولیس کا موقف سامنے رکھیں تو کیسے انہیں معلوم تھا کہ فرنٹ سیٹ پر کون ہے۔ پولیس سے جو چیزیں مانگی گئی ہیں انہیں فراہم کرنے میں لیت و لعل سے کام لے رہی ہے ہے۔ وزیراعظم سے کہوں گا کہ وہاں کی قیادت سے بات کریں اور وہ چیزیں لے کر دیں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے