پاکستان

11سال سے شہری جبری لاپتہ،پروڈکشن آڈر بے سود،وزارت دفاع کو نوٹس جاری

نومبر 16, 2022

11سال سے شہری جبری لاپتہ،پروڈکشن آڈر بے سود،وزارت دفاع کو نوٹس جاری

اسلام آباد ہائیکورٹ نے گیارہ سال سے جبری لاپتہ شہری حبیب الرحمن کے کیس میں وزارت دفاع اور انکوائری کمیشن کو نوٹس جاری کر دیا۔

بدھ کو کیس کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کی۔جبری گمشدہ حبیب الرحمن کے بھائی سعد الرحمن اور ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کی طرف سے ایڈووکیٹ ایمان حاضر مزاری اور دیگر وکلا پیش ہوئے۔

وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ حبیب الرحمن 13 مارچ 2011 کو اپنی تیسری بیٹی کی پیدائیش کے وقت اپنی اہلیہ کے ساتھ موجود تھے،انہیں سی ایم ایچ ہسپتال سیالکوٹ سےجبری طور پر اغوا کر لیا گیا. اہل خانہ کی بے شمار کوششوں کے بعد 29 اپریل 2011 کو تھانہ میں ایف آئی آر درج ہوئی. ایف آئی آر درج ہونے کے بعد 13 مئی 2011 کو اہل خانہ نے لاہور ہائی کورٹ میں کیس درج کروایا مگرعدالت نے یہ کہہ کر کہ کیس خارج کردیا کہ کمیشن آف انکوائری میں جا کر اپنا کیس درج کروائیں۔

ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کے رزیعے کمیشن آف انکوائری میں 2011 میں کیس درج کروایا گیا۔ گیارہ سال کا عرصہ گزرنے کے بعد آخر کار30 اگست 2022 کو کمیشن نے پروڈکشن آرڈر جاری کر دیا جس سے اہل خانہ نہ کے اندر امید کی کرن پیدا ہوئی کہ اب حبیب الرحمن گھر واپس آ جائے گا مگر تقریبا تین ماہ گزرنے کے بعد تک اس پروڈکشن آرڈر پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوا اور نہ ہی حبیب الرحمن گھر واپس آیا.

ڈیفنس آف ہیومن رائٹس نے سپریم کورٹ میں بھی کیس درج کروایا جو کہ 2018 میں دیگر لاپتہ افراد کے کیسسز کے ساتھ خارج کر دیا گیا۔
اس لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں آئینی درخواست داخل کی گئی تاکہ کمیشن کے پروڈکشن آرڈر پر عملدرآمد کروایا جاسکے.

وکلا نے عدالت استدعا کی کہ فیڈریشن آف پاکستان کمیشن آف انکوائری اور وزارت دفاع جو کہ جواب دہندگان ہیں ان کے خلاف نوٹس جاری کیے جائیں۔

وکلا کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے تینوں جواب دہندگان فیڈریشن آف پاکستان، کمیشن آف انکوائری اور وزارت دفاع کو نوٹس جاری کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 2 ہفتوں کے لیے سماعت ملتوی کر دی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے