پاکستان

آرمی چیف کو گالیاں، اعظم سواتی کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

نومبر 27, 2022

آرمی چیف کو گالیاں، اعظم سواتی کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

اسلام آباد کی مقامی عدالت نے ’متنازع ٹویٹس‘ کے کیس میں سینیٹر اعظم سواتی کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا ہے۔

اتوار کی صبح وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے تحریک انصاف کے سینیٹر اعظم سواتی کو اسلام آباد میں واقع فارم ہاؤس سے گرفتار کیا تھا۔

انہیں جوڈیشل مجسٹریٹ ڈیوٹی جج وقاص احمد راجہ کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ اعظم سواتی کی جانب سے بابر اعوان بطور وکیل پیش ہوئے۔

عدالت میں وکیل بابر اعوان نے موقف اختیار کیا کہ جو ٹویٹس کیے گئے وہ ایف آئی آر میں لگائی گئی دفعات پر پورا نہیں اترتے۔ ’پولیس کی جانب سے لیے گئے بیان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اعظم سواتی کا 164 کا بیان نہیں لیا گیا۔ سینیٹر اعظم سواتی پر پچھلی بار تشدد کیا گیا تھا۔ اعظم سواتی اب بھی اس تشدد سے ریکور نہیں کر سکے ہیں۔‘

گرفتاری دینے سے قبل اعظم سواتی نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ میجسٹریٹ ان کے وارنٹ لائے ہیں جو ٹھیک (قانونی) ہے۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کچھ اہلکار ان کو اپنے ساتھ لے کر جا رہے ہیں۔

ویڈیو بیان میں ان کا کہنا تھا کہ رات کو تقریر ختم کرنے کے بعد وہ خیبر پختونخوا نہیں گئے بلکہ سیدھا اسلام آباد آئے ہیں۔
’میں نے کوئی بھی جرم کیا ہو اس کا طریقہ یہ ہے کہمیجسٹریٹ کے سامنے پیش کریں، اپنی تفتیش کریں اور اس کے بعد سزا کے لیے بالکل تیار ہوں۔‘

اعظم سواتی کو وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائمز ونگ نے ان کی 1، 24 اور 25 نومبر کی فوج سے متعلق متنازع ٹویٹس کی بنیاد پر گرفتار کیا ہے۔

اعظم سواتی کی دوبارہ گرفتاری پر ردعمل دیتے ہوئے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا کہ ’بنانا ریپبلک ہی نہیں جس تیزی سے ہم ایک فسطائی ریاست بن رہے ہیں اس پر مجھے نہایت حیرت و تکلیف ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ’ کیسے کوئی اس کرب و آزار کے احساس سے عاری رہ سکتا ہے جس سے سینیٹر سواتی زیرِحراست تشدد اور بلیک میلنگ کی غرض سے اپنےاہلِ خانہ کو بھجوائی جانے والی اپنی اور اپنی قدامت پسند اہلیہ کی ویڈیو کے بعد گزرے۔‘

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے