جنرل باجوہ کے خلاف بول کر احسان فراموش نہ بنیں: پرویز الٰہی
پنجاب کے وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی نے عمران خان کے سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کے بارے میں بیانات پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پی ٹی آئی احسان فراموش نہ بنے۔‘
اتوار کو انہوں نے نجی نیوز چینل اے آر وائی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عمران خان کے بیان کو ’احسان فراموشی‘ کے مترادف قرار دیا ہے۔
انٹرویو میں چوہدری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ ’تین مہینے پہلے میں نے مونس الٰہی سے یہ بات کہی تھی کہ دیکھو باجوہ صاحب ہمارے محسن ہیں، آپ کے محسن ہیں، پی ٹی آئی کے محسن ہیں۔ خدا کا خوف کرو ان کے بارے میں نہ بولیں۔‘
پرویز الٰہی نے گذشتہ روز عمران خان کی تقریر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’کل عمران خان نے اپنے ساتھ بٹھا کر مجھے، میرے سامنے باجوہ صاحب کو برا بھلا کہا، یہ بڑی زیادتی ہے۔‘
انہوں نے اپنی اتحادی جماعت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’پی ٹی آئی کو چاہیے کہ یہ یاد رکھیں کہ احسان فراموش نہ بنیں۔ باجوہ صاحب کے احسان ہیں۔‘
انہوں نے پی ٹی آئی کو خبردار کیا کہ اب اگر کسی نے بھی سابق آرمی چیف کے خلاف بیان دیا تو سب سے پہلے وہ بیان دینے والے کی مخالفت کریں گے۔
انہوں نے پی ٹی آئی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اتنا کوئی بندہ احسان فراموش نہیں ہوسکتا‘ اور یہ بھی مشورہ دیا کہ ’آپ اپنی اوقات میں رہیں۔‘
پرویز الہی نے کہا کہ پریس کانفرنس سے پہلے کہا تھا کہ آپ ہمیں کیا دیں گے۔ ’میں نے کہا کہا اسد عمر، پرویز خٹک اور سبطین خان پر مشتمل کمیٹی بنائیں یہ ہم سے بات کریں۔‘
پرویز الہی نے کہا کہ میں نے عمران خان سے کہا کہ جنرل باجوہ آپ کے اور پی ٹی آئی کے محسن ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں پرویز الہی نے کہا کہ 99 فیصد لوگ چاہتے تھے کہ اسمبلی نہ ٹوٹے۔
وزیراعلی پنجاب نے کہا کہ جنرل فیض حمید نے ہمارے ساتھ بہت زیادتی کی۔ ’فیض حمید نے چیئرمین نیب کو کہا کہ پرویز الہی اور مونس الہی کو گرفتار کرو۔‘
‘ہم نے جنرل باجوہ سے شکایت کی تو انہوں نے فیض حمید کی ٹھکائی کی۔ جنرل فیض نے باجوہ صاحب کو بتایا کہ یہ عمران خان کا حکم ہے۔‘
گزشتہ رو عمران خان نے کہا تھا کہ ’کون ذمہ دار تھا ایک چلتی ہوئی حکومت کو گھر بھیجنے کا۔ اس کا ایک آدمی ذمہ دار تھا اور وہ تھے جنرل باجوہ۔ میں اس لیے بات نہیں کرتا تھا کہ وہ آرمی چیف تھے اور ملک کی بدنامی نہ ہو۔ ہم چپ کر کے بیٹھے رہے۔‘
وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی عمران خان کی تقریر کے دوران ان کے ساتھ بیٹھے تھے.

