اہم خبریں متفرق خبریں

بحریہ ٹاؤن کی ”غنڈی رَن“ کون، لڑکیوں پر تشدد کیوں کیا؟

مئی 18, 2023

بحریہ ٹاؤن کی ”غنڈی رَن“ کون، لڑکیوں پر تشدد کیوں کیا؟

پاکستان کے شہر لاہور کے بحریہ ٹاؤن میں ایک خاتون کی دو لڑکیوں کو ایک سڑک پر زد کوب کرنے کی ویڈیو وائرل ہے۔

سوشل میڈیا سائٹ ٹوئٹر پر کشف نامی ہینڈل سے شیئر کی گئی جس میں کچھ خواتین اور مردوں کو ایک گاڑی کے اردگرد چیختے چلاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

کشف نے لکھا کہ ’میری دوست اور اس کی بہن کو آج لاہور کے بحریہ ٹاؤن میں کچھ طاقتور امیر آنٹیوں اور ان کے گارڈز کی جانب سے ہراساں کیا گیا اور مارا گیا۔‘

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک خاتون ایک لڑکی کو بالوں سے پکڑ کر گاڑی سے باہر نکال رہی ہیں۔

بعض ٹویٹر صارفین نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ خاتون دراصل بحریہ ٹاؤن لاہور کی ملازم ہیں تاہم بحریہ ٹاؤن کی جانب سے اس دعوے کی تردید کی گئی۔

بحریہ ٹاؤن کے مطابق مذکورہ خاتون ملازمت چھوڑ چکی ہیں تاہم بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ تشدد کا یہ واقعہ بحریہ ٹاؤن لاہور میں ہی پیش آیا۔

’بحریہ ٹاؤن کے رہائشیوں کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے۔ یہ معاملے کی باریک بینی سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور اس حوالے سے متاثرہ فریق کو ہر قسم کی مدد فراہم کی جائے گی۔‘

اینکرپرسن ابصا کومل نے ایک ٹویٹ میں دعویٰ کیا کہ لاہور میں لڑکیوں کو زد و کوب کرنے والی خاتون کا نام مائرہ افتخار ہیں اور انہوں نے سڑک پر لڑکیوں کو اس لیے تشدد کا نشانہ بنایا کہ وہ اپنی کار کا ہارن بجا رہیں تھیں۔

سوشل میڈیا پر انسٹاگرام کی ایک سٹوری بھی وائرل ہے جس کے مطابق تشدد کا نشانہ بننے والی لڑکیوں کا نام فضا اور اقصہ ہے۔

انسٹاگرام سٹوری میں ان کی طرف سے ان کو زد و کوب کرنے والی خاتون کی تصویر لگائی گئی اور لکھا گیا کہ ’یہ خاتون ہیں سب کے پیچھے اور ان کا نام مائرہ افتخار ہے۔‘

انسٹاگرام سٹوری میں مزید کہا گیا ہے کہ ’انہوں نے مجھے اور میری بہن کو ہراساں کیا اور کسی کو مدد کے لیے کال بھی کرنے نہیں دی۔‘

بحریہ ٹاؤن لاہور کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ یہ خاتون مائرہ افتخار ہی ہیں تاہم یہ وضاحت بھی دی گئی کہ اب وہ بحریہ ٹاؤن کی ملازم نہیں۔

ٹوئٹر پر جاری ایک بیان میں بحریہ ٹاؤن کی طرف سے ویڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ’ملزمہ مائرہ افتخار بہت عرصے سے بحریہ ٹاؤن کی ملازمہ نہیں اور وہ بحریہ ٹاؤن کی ٹیم کو بہت پہلے چھوڑ چکی ہیں۔‘

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے