’چاہتا ہوں معاملات ٹھنڈے رہیں‘، تائیوان کی آزادی کو صدر ٹرمپ کا دورہ چین کھا گیا؟
بظاہر یوں لگتا ہے کہ دنیا بھر سے اپنی بات زبردستی اور جنگوں کے ذریعے منوانے والے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے دورے میں تائیوان کے مسئلے کو پس پشت ڈال دیا ہے-
صدر ٹرمپ نے جمعے کو فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے تائیوان کو چین سے باضابطہ آزادی کا اعلان کرنے سے خبردار کیا ہے۔ بیجنگ میں چینی صدر شی جنپنگ کے ساتھ دو روزہ سربراہی اجلاس کے اختتام پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’میں نہیں چاہتا کہ کوئی فریق آزادی کے معاملہ پر بات کرے۔‘
تائیوان کے صدر لائی چنگ تے پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ تائیوان کو باضابطہ طور پر آزادی کا اعلان کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ وہ خود کو پہلے ہی ایک خودمختار ریاست سمجھتا ہے۔
تائیوان کے بہت سے لوگ خود کو ایک الگ قوم سمجھتے ہیں، تاہم اکثریت موجودہ صورتحال برقرار رکھنے کے حق میں ہے، جس میں نہ تو چین سے باقاعدہ آزادی کا اعلان کیا جائے اور نہ ہی اس میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا جائے۔
انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس معاملے پر امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ہمیں جنگ لڑنے کے لیے ہزاروں میل سفر کرنا پڑے گا، میں ایسا نہیں چاہتا۔ میں چاہتا ہوں کہ معاملات ٹھنڈے رہیں اور چین بھی تحمل کا مظاہرہ کرے۔‘
امریکہ طویل عرصے سے تائیوان کی حمایت کرتا آیا ہے اور قانون کے تحت اس کی دفاعی مدد کا پابند بھی ہے، تاہم اسے چین کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات بھی برقرار رکھنا ہوتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اس سے قبل کہا تھا کہ انھوں نے اس معاملے پر ’کسی ایک مؤقف کی حمایت کا وعدہ نہیں کیا۔‘ چین تائیوان کو اپنی سرزمین کا حصہ قرار دیتا ہے اور ضرورت پڑنے پر طاقت کے استعمال کو مسترد نہیں کرتا۔
امریکہ کا روایتی مؤقف یہی رہا ہے کہ وہ تائیوان کی آزادی کی حمایت نہیں کرتا، جبکہ بیجنگ کے ساتھ تعلقات اسی بنیاد پر قائم ہیں کہ دنیا میں صرف ایک چین کی حکومت کو تسلیم کیا جائے۔
چین تائیوان کے صدر پر سخت تنقید کرتا رہا ہے اور اسے ’شرپسند‘ اور ’خطے کے امن کو نقصان پہنچانے والا‘ قرار دے چکا ہے۔
واشنگٹن واپسی کے دوران صحافیوں سے گفتگو میں ٹرمپ نے بتایا کہ ان کی شی جن پنگ سے تائیوان پر تفصیلی بات چیت ہوئی، تاہم انھوں نے اس پر بات کرنے سے گریز کیا کہ آیا امریکہ تائیوان کے دفاع کے لیے مداخلت کرے گا یا نہیں۔
ان کے مطابق شی جن پنگ اس معاملے پر ’بہت مضبوط مؤقف رکھتے ہیں‘ اور تائیوان کی آزادی کی کسی بھی تحریک کو نہیں دیکھنا چاہتے۔
چینی سرکاری میڈیا کے مطابق شی جن پنگ نے مذاکرات کے دوران خبردار کیا کہ ’تائیوان کا مسئلہ چین اور امریکہ کے تعلقات میں سب سے اہم ہے‘ اور اگر اسے غلط طریقے سے نمٹایا گیا تو دونوں ممالک کے درمیان تصادم ہو سکتا ہے۔
جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ تائیوان کے معاملے پر چین کے ساتھ جنگ کا امکان دیکھتے ہیں تو انھوں نے کہا کہ ’نہیں، مجھے ایسا نہیں لگتا، سب ٹھیک رہے گا۔ شی جن پنگ جنگ نہیں چاہتے۔‘