عمران ریاض تاحال لاپتہ، پنجاب پولیس کے سربراہ نے عدالت کو کیا بتایا؟
لاہور ہائیکورٹ نے ٹی وی اینکر و یوٹیوبر عمران ریاض کی بازیابی کے لیے پولیس کو مزید ایک ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی ہے۔
منگل کو پنجاب پولیس کے سربراہ نے عدالت کو بتایا کہ عمران ریاض کی بازیابی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں.
آئی جی پنجاب نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے محکمے اور تمام ایجنسیز اُن کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں.
آئی جی پنجاب کا کہنا تھا کہ عمران ریاض کو لے کر جانے والے افراد کی شناخت کے لیے نادرا سے رجوع کیا گیا ہے۔
عدالت نے عمران ریاض کے والد کو ورکنگ کمیٹی میں جا کر اپنے تحفظات بیان کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے عمران ریاض کے والد کی درخواست پر سماعت کی۔
گزشتہ سماعت پر وزارت دفاع کے سیکریٹری اور پنجاب پولیس کے سربراہ نے لاہور ہائیکورٹ کو آگاہ کیا تھا کہ تحریک انصاف کے ہمدرد ٹی وی اینکر اور یوٹیوبر عمران ریاض کا اب تک کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
عمران ریاض کو رواں ماہ 11 مئی کو سیالکوٹ کے ایئرپورٹ سے اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ بیرون ملک روانہ ہونے کے لیے وہاں پہنچے تھے۔
بعدازاں پولیس نے دعویٰ کیا کہ اُن کو رہا کر دیا گیا تھا تاہم وہ کبھی گھر نہیں پہنچ سکے اور اس کے بعد سے لاپتہ ہیں۔
ح پنجاب پولیس کے سربراہ ڈاکٹر عثمان انور نے عدالت کو بتایا کہ پولیس نے جیو فینسنگ کی تیکنیک استعمال کی ہے مگر اب تک کوئی نمبر لوکیٹ نہیں ہو سکا۔
انھوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ تشویشناک بات یہ ہے کہ عمران ریاض کے معاملے میں کچھ غیرملکی نمبرز بھی استعمال ہوئے، جو نمبرز استعمال ہوئے وہ افغانستان کے ہیں اور پنجاب پولیس کے پاس افغانستان کے نمبرز ٹریس کرنے کی صلاحیت نہیں۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے آئی جی پنجاب سے استفسار کیا کہ ’بتائیے اب تک عمران ریاض مِسنگ پرسن کیوں ہیں؟ انھوں نے یہ بھی دریافت کیا کہ کیا اس ضمن میں وزارت دفاع اور وزارت داخلہ سے کوئی رپورٹ آئی ہے؟
سیکریٹری دفاع کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ ابھی تک عمران ریاض کا کوئی سراغ نہیں مل سکا .

